ترقی پسند تنظیموں کے وفاق نے اگنی پتھ اسکیم کو ختم کرنے، مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کو کابینہ سے نکالنے اور وجئے کیلاش ورگیہ پرمقدمہ درج کرنے کے مطالبات کے تحت عزت مآب صدر جمہوریہ ہند کو مکتوب روانہ کیا

0
Post Ad

بیدر۔ 22/جون (محمدیوسف رحیم بیدری) ترقی پسند تنظیموں نے عزت مآب صدرجمہوریہ ہند کو ڈپٹی کمشنر کے توسط سے ایک مکتوب روانہ کرکے کہاہے کہ اگنی پتھ اسکیم کی بازیافت سے اگنی ویر کی توہین کی گئی ہے، بی جے پی کے جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیا ملک کی عوام سے معافی مانگیں، اور مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کو مرکزی وزارت سے نکال باہر کیاجائے۔ ان مطالبات کو لے کر آج چہارشنبہ کوایک چھوٹی سی ریلی امبیڈکر سرکل سے ڈپٹی کمشنر دفتر تک نکال کر ایک میمورنڈم صدرجمہوریہ ہند کے نام روانہ کیاگیا۔ اس مکتوب کے ذریعہ بیدرضلع کی ترقی پسند تنظیموں کی فیڈریشن نے درج ذیل اعتراضات جمع کرائے ہیں۔(۱)سال 2013؁ء میں دہلی میں ریٹائرڈ فوجی ستیہ گرہ کررہے تھے اورمرکزی حکومت سے ان کامطالبہ تھاکہ ایک رینک ایک پنشن دیاجائے۔ اس وقت مسٹر نریندر مودی نے ریٹائرڈ فوجیوں سے ملاقات کی تھی اور سابق فوجیوں کو ایک رینک ایک پنشن دینے کے مطالبہ کی تائیدکرتے ہوئے وعدہ کیاتھاکہ وہ ایساکریں گے۔ (۲)سال2014؁ء ہندوستان کے وزیر اعظم کے امیدوار بن کر کہاتھاکہ وہ بھارت کی جنتا کا کالا دھن ہندوستان کو واپس لائیں گے۔ ہر خاندان کے بینک اکاؤنٹ میں 15لاکھ روپئے جمع کریں گے۔ ہرسال 2کروڑ سرکاری نوکریوں دینے کا بھروسہ دلایاتھا۔ انہیں برسراقتدار آئے 8سال ہوچکے ہیں۔ ان 8سال میں 10لاکھ افراد کو سرکاری نوکری نہیں دی گئی۔ اور نہ ہی عوام کی بینک کھاتوں میں رقم جمع کی گئی۔(۳) زمینی افواج، بحری افواج اور فضائیہ کے اہلکاروں کو خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔ فوجی 15 سال کی خدمت کے بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ادا کی جاتی ہے۔(۴) مرکزی حکومت نے 14/جون کو اگنی پتھ اسکیم کااعلان کیا۔ اگنی پتھ اسکیم پر عمل درآمد ہونے کی صورت میں پہلے سے سروس میں موجود فوجی مایوس ہوئے ہیں۔ مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگنی پتھ اسکیم کے تحت منتخب ہونے والے امیدواروں کو اگنی ویر کہا جائے گا۔(۵) اگنی ویراسکیم کے تحت 4 سال کے لیے 100افراد اگر تربیت حاصل کرتے ہیں تو اس میں 25%فوجیوں ہی کو نامزد کیاجائے گا۔ تربیت یافتہ باقی 75%افراد کی فوج میں بھرتی نہیں ہوگی۔ اور جن کی جن کی بھرتی ہوگی ان کے لیے کوئی پنشن نہیں ہے۔ خالی آسامیوں کا بھی کوئی تحفظ نہیں ہے۔ کوئی خاص تربیت بھی نہیں رہے گی۔اگر اگنی ویر کو میدان جنگ کی تربیت نہ دی جائے تو ملکی دفاع کا سوال اٹھتا ہے۔ ہمارا ملک چین اور پاکستان میں گھرا ہوا ہے اور ہمارے ملک سے جھگڑا کرنے کے لیے پہلے ہی تیار ہیں۔ بحر ہند میں غیر ملکی فوجیوں نے کیمپ بنائے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ملک کی حفاظت کاسوال اہمیت اختیار کرجاتاہے۔(۶) بی جے پی لیڈروں میں سے ایک قائد نے B.J.P. دفتر میں سیکیورٹی اہلکار تعیناتی کے حوالے سے اگنی ویر کی یہ کہہ کر توہین کی ہے کہ میں اگنی ویر کو بی جے پی دفتر کا سیکورٹی گارڈ بنانے کے لئے ترجیح دوں گا۔ مرکزی وزیر جئے کشن ریڈی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگنی ویر خدمات سے باہر آنے کے بعد انہیں ڈرائیونگ، الیکٹریشن، پلمبنگ اور ہیئر ڈریسرز کی تربیت دی جائے گی جس کی مذمت کی جاتی ہے۔اس پس منظر میں فیڈریشن آف پروگریسو آرگنائزیشنز اس لیے صدر مملکت سے مندرجہ ذیل مطالبات کو پورا کرنے کی اپیل کرتی ہے۔(A) اگنی پتھ اسکیم کو واپس لیا جائے۔(B) بی جے پی قائد کیلاش وجئے ورگیا نے اگنی ویر وں کو بی جے پی دفتر کے گارڈ کا کام دینے کی بات کہہ کر ان کی توہین کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔(C) مرکزی وزیر برائے مملکت جی کشن ریڈی نے اگنی ویروں کے سروس چھوڑکر باہر آنے کے بعد انہیں ڈرائیونگ، الیکٹریشن، پلمبنگ اور حجامت کی تربیت دی جائے گی کہاہے، یہ دراصل اگنی ویر وں کی توہین ہے چنانچہ مرکزی وزیر جی۔ کشن ریڈی کو مرکزی کابینہ سے برطرف کیا جائے۔اس احتجاج اور مکتوب کو دیتے ہوئے بابوراؤ ہوننا، سید وحید لکھن، شیخ انصار، علی احمد خان، راجکمار مولبھارتی، نذیر احمد،مبشر سندھے، روی واگھمارے، ارون پٹیل،شریپت راؤ دینے، بابوراؤ پاسوان، شیوراج کمٹھانہ، شیوکمار نیلی کٹی، ایم ڈی سہیل، مانک راؤ خانہ پوروغیرہ موجودتھے۔ یہ تمام افراد مذکورہ وفاق کے ذمہ داران میں شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!