سال 2022؁ء کے 158ویں دن منگل کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔ کرناٹک۔موبائل:9141815923

0
Post Ad

۱۔حق ِ اضطراب
وہ لوگ خراب تھے۔ ہرہتھکنڈا استعمال کرتے تھے۔اور سیاسی طورپر طاقت ور بھی تھے۔
یہ لوگ اچھے تھے۔تاہم سیاسی طورپر خدائی فرمان کے استعمال سے بے خبرتھے۔ اسلئے کمزور تھے۔ ان میں بھکاریوں کی تعداد ماناکہ زیادہ تھی لیکن افسوس اس بات کاتھاکہ وہ اپناسیاسی حق لینا/مانگنا/دہائی دینا/اس کے لئے کوشش کرنا تک بھول چکے تھے۔
نظامِ جمہوریت بھی بادشاہت سے کم نہیں تھا۔ ہتھیلی میں جنت دکھاتاتھا۔ بھکاری مطمئن نظر آتے تھے لیکن اندورن کے اضطراب سے صرف حکومت واقف تھی۔ اضطرابی لاوے کو باہر نکل آنے سے روکنے کے لئے بیچارے بھکاریوں کے خلاف آئے دن کوئی نہ کوئی ایشوکھڑا کیاجاتاتھا۔آج کل انہیں غیرملکی کہاجارہاہے۔
۲۔ جنون
”سر….تھکان بڑھ جائے گی، شوگر میں اضافہ ہوگا، صحت پر اثرہوگالہٰذا اس گاؤں کو جانا مناسب نہیں،کافی دور واقع ہے،پہلے ہی کئی پروگرام کرچکے ہیں،اسلئے اب و اپس چلیں“چنٹو ریڈی پی اے
نے مشورہ دیا۔ ممتازسیاست دان آریہ ترلوک نے ایک قہقہہ لگایا اور کہا”یہ بتاپی اے، وہاں جانے سے شال، ہار اور تاج پوشی کرتے ہوئے ہماری عزت افزائی کی جائے گی کہ نہیں؟“
چنٹوریڈی بولا”جی سر، وہاں بڑی عزت ہوگی، آپ کے شاندار استقبال کی تیاریاں وہ لوگ کرچکے ہیں“
آریہ ترلوک نے کہا”پھر سوچنا کیاہے، چلتے ہیں“ فرچونر گاڑی تیزرفتار ی کے ریکارڈ توڑ رہی تھی۔ پی اے کاچہرہ اُترا ہواتھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!