سال 2022؁ء کے 161ویں یوم یعنی جمعہ کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔کرناٹک۔ موبائل:9141815923

0
Post Ad

۱۔ نقاب ِ ادب
”ہاں دوستی ختم ہوچکی ہے“ راکیش سنہا نے کہاتو میں نے پوچھا
”پھر اب کیاہے؟“وہ بڑی تکلیف سے بولا۔”دوستی کی راکھ باقی ہے، جس کو ہم تمام ساتھی کریدنے سے باز آتے ہیں۔ کسی بھی موڑ پر چہرہ نظر آتاہے تو ایک دوسرے کے احترام کے لئے ہاتھ اٹھ جاتاہے۔ سلام مسنون، نمستے، آداب، ویلکم یہ بھی تو جیسے ضروری اشیاء ہیں“میں نے کچھ توقف کرتے ہوئے کہا”ہاں!یہ سب تو معاشرتی زندگی کاحصہ ہے“
راکیش نے ہنس کر کہا ”ان تمام کو ہم دوستوں نے اپنے اوپر لازم کرلیاہے“
………………………….
۲۔ انسانی چیخ
مشینوں سے بات کرتے، ان کے درمیان رہتے بستے، انہیں زندگی دیتے دیتے اس کی اپنی زندگی کے 30سال اس نے گزاردئے تھے۔ اب وہ انسانوں کے درمیان جینا چاہتاتھا لیکن اس کے فرمانبردار بچوں نے اچانک ہی اولڈایج ہوم کو اس کامقدر بنادِیا۔
اولڈ ایج ہوم کے بوڑھے چہروں اور جسموں کو وہ دیکھتاتو اس کو ایسالگتا جییے وہ پھر ایک بار مشینوں میں واپس لاکر چھوڑدیاگیاہے۔
”مجھے ان مشینوں سے باہر نکالو“وہ کبھی کبھی یہاں چیخ اٹھتاہے لیکن اسکی چیخ اس کے فرمانبردار بچوں کے کانوں تک نہیں پہنچتی۔ اولڈ ایج ہوم کے درودیوار میں دفن ہوجاتی ہے۔
………………………….
۳۔ بباطن
ایک فلم ہند وہوگئی، دوسری فلم مسلمان ہوگئی۔
لیکن حقیقت میں جو جسم ہند واور مسلمان تھے،وہ حیرت زدہ تھے کہ یہ سب کیاہورہاہے؟ کون ہمارے درمیان یہ سب پھیلانے میں لگاہے؟ لیکن ایسے حیرت زدہ جسموں کی تعداد نہایت ہی قلیل تھی۔
تقریباً تمام دیگرجسم ہندومسلم تفریق سے بباطن جیسے خوش ہی تھے۔
………………………..
۴۔ انتباہ
پیدا ئش سے لے کر ادھیڑ عمر تک چاچانے اپنے جسم کاکافی خیال رکھاتھا۔ ابتداء ہی سے ان کے والد نے ان کی توجہ اس جانب مبذول کرارکھی تھی۔ہردن ورزش کرنا اور بعدورزش نہانا اور پھر ناشتہ کے بعد پڑھائی یاپھر کام کی طرف توجہ دینا روٹین میں داخل تھا۔ اسی چکر میں وقت ایسے نکلا کہ پتہ ہی نہ چلا۔ ادھیڑ عمری میں چاچا اپنے جسم کا کافی خیال رکھتے ہیں۔اچھے کپڑے پہننے سے زیادہ انھیں جسم کو اچھااورسنبھال کررکھنے کی فکرہے۔
کمزور ی کس میں نہیں ہوتی؟ انسان ہے تو کمزور ہی ہے کیونکہ وہ پید اہی کمزور ہواہے۔اسی لئے شاید ان کو جہاں جسم کاخیال ضرور ہے لیکن وہ اپنی روح کی جانب سے بے پرواہیں۔ یہی ایک کمزور ی ہے۔
چاچا کے صوفی دوست کا کہناہے کہ روح کی جانب سے بے پروائی نے جگ چاچا کودنیاداراور مادہ پرست بنارکھاہے۔انہیں اپنی روح کابھی خیال رکھنا ہوگاورنہ کہانہیں جاسکتاکہ انجام کیاہوگا؟ چاچا کے صوفی دوست نے انتباہ دیاکہ چاچا جسم سے رخصت ہوجانے والی روح کی طرف توجہ دیں گے تو سرخروٹہریں گے ورنہ نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!