خواب دیکھنا اچھی علامت ہے اور اچھا خواب دیکھنا اور بھی اچھا ہے ۔

0
Post Ad
.اُردو کا ایک عام محاورہ ہے کہ بلی کے خواب میں چچڑے ۔ ليكن کوئی اس پر غور نہیں کرتا۔ مولانا محمد فہیم الدین صاحب قرآنی کلاس میں بشتر اس محاوره کو استعمال کرتے ہیں ۔ اور هماری خواتین کو اس محاورے سے راحت ملتی ہے۔ اور وہ بھی خوشی محسوس کرتی ہیں .
خواب دیکھنا اچھی علامت ہے اور اچھا خواب دیکھنا اور بھی اچھا ہے ۔
دوستو ا آدمی خواب اُس چیزکا دیکھتا ہے جسکی خواہش وہ اپنے دل میں ہاتا ہے۔ خواب میں جو د یکھا گیا ہے اس کا حصول محنت طلب ہوتا ہے۔ محنت مشقت سعی و جید کے بغیر وہ خواب ، تعبیر نہیں بنتا۔
دوستو! بلی بیداری کی حالت میں بھی گوشت کے چچڑوں کو پسند کرتی ہے۔ اور الحمد للہ خواب بھی اسی کادیکھتی ہے ۔ گویا کہ اسکی زندگی کا محور ھی چچڑے ہیں ۔ اس سے کم پروه راضی نہیں ہوتی۔ یہ ہے اسکی استقامت اس کو کہتے ہیں ثابت قدمی –
اب ذرا ایک مسلمان سے پوچھو کہ تمہاری زندگی کا نصب العین کیا ہے تو وه شایدهی بول پاے گا ۔
حال ہی میں عام مسلمانوں کی دینی حالت معلوم کرنے کے لئے ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا تم قربانی کرتے ہو ؟ایک مسلمان نے جواب دیا کہ جی ہاں میں ہر سال قربانی کرتا ہوں ۔ تو دوسرا سوال کیا گیا کہ یہ بتائیے کہ قربانی کس پیغمبر کی یاد میں کی جاتی ہے تو جواب ملا کہ حضرت آدم علیه سلام کی یاد میں ، کبھی کسی مسلمان نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وصلم کی یاد میں ۔ تو یہ ہے ملت کی دینی بیداری کا معیار ِ
بهلا بتائیے کہ دین سے اسقدر کمزور تعلق کے ساتھ ہم اسلامی انقلاب کا تصور نہیں کرسکتے ۔ مسلمان کے رگ و پے میں وہ خون دوڑے جو بلال حبشی کے جسم میں دوڑتا تھا ، اس کے خواب میں نظام مصطفى کا تصور ہونا چاہیے ، باطل نظام میں اسکی زندگی بے چینی و بے قراری کی زندگی ہو ، اُٹھتے بیٹھتے لیٹے وه الله کے گن گانے والا ہو اور نظام حق کے قیام کے لئے وہ اپنے خون کا آخری قطره بھی بہادینے کے لئے تیار ہو ۔
حضرت ابراهیم علیه سلام نے بھی خواب دیکھا تھا ، آپ نے عمل بھی کیا تو اللہ کو یہ کہنا پڑا کہ اے ابراهیم  تونے خواب سچ کردکھایا ، حقیقت یہ ہے کہ ابراهیم اپنی ذات میں ایک ملت تھا۔
امت میں واضح مقصد او ر نصب العین کی کمی ہے . اس کمی کو دور کرنے کے لئے بہت بڑے پیمانے پر بیداری لانے کی ضرورت ہے۔
هم کوشش کرنے کے مکلف ہیں ، اس کے سلسلہ میں جوابدہی ہو گی ، ورنہ اسلامی نظام تو اللہ جب چاہے گا لائے گا۔
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!