طنزومزاح معاہدہ۔ وہ زمانہ بیت گیا

محمد شجاع الدین منہلی، بیدر۔ موبائل 9986880602:

0

وہ زمانہ بیت گیا، غم یاخوشی کی خبر دینی ہوتی تو ہفتے اور مہینے لگ جاتے۔یامیلوں کی مسافت طئے کرنی پڑتی تھی۔ سواری کابھی کوئی خاص انتظام نہیں تھا۔ پیدل، بیل گاڑی یاسائیکل کے ذریعہ رشتہ داروں کے پاس آنا جاناہوتا لیکن اب زمانہ بدل گیاہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کازمانہ ہے۔ اس جدید دور میں ایک دوسرے کی خیریت منٹوں یاسکنڈ میں معلوم ہوجاتی ہے۔ کچھ سال پہلے فون تھا۔ پھر فون کی جگہ اسمارٹ فون نے لے لی ہے۔ آپ بیٹھے جگہ ہزاروں میل دور بیٹھے فرد کی آڈیو، ویڈیو کے ذریعہ خیریت معلوم کرسکتے ہیں بلکہ خیریت معلوم ہوجاتی ہے۔ دور رہ کر بھی ہم قریب ہوجاتے ہیں۔
جہاں اسمارٹ فون کے اتنے فائدے ہیں وہاں کچھ نقصانات بھی ہیں۔ آج دنیا کاہر شخص بچہ،نوجوان، لڑکے لڑکیاں، اور گھریلو عورتیں اس متعدی مرض کا شکار ہیں۔ گھنٹوں، اسمارٹ فون میں گھسے رہتے ہیں۔ اسمارٹ فون کی وجہ سے ہاتھ پر گھڑی باندھنا چلاگیا۔ حساب کتاب کاCalculator ختم ہوگیا۔ خط وکتابت مسدود ہوگئی۔ نوجوانوں نے مطالعہ کرنا چھوڑدیا۔ ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر کی جگہ اسمارٹ فون نے لی لی۔ فوٹوگرافی کاکاروبار ٹھپ ہوگیا۔ دوستیاں ختم ہوگئیں۔ آج چوبیس گھنٹہ وہ ہمارا تنہا ساتھی ہے۔ جس کی بدولت زندگی کاچین وسکون ختم ہوگیاہے۔ اس کے بغیر پڑھائی میں دل نہیں لگتا۔ حافظہ کمزور ہوچکاہے۔ بلکہ زندگی پوری اسمارٹ فون کے چکر میں ختم ہورہی ہے۔ باوجود اس کے وہ اپنی جگہ کام کررہاہے اور بہت تیزی سے کررہاہے۔ لیکن مجھے یہ فکر ہے کہ ساری دنیا کے بچے، نوجوان، مردو خواتین کہاں جاکر دم لیں گے؟
میرے گھر کا بھی یہی حال ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی ایک ہی اسمارٹ فون پر زندہ ہیں۔ جب فون میرے ہاتھ میں ہوتاہے تو وہ بے چین رہتی ہیں اور جب فون ان کے پاس ہوتاہے تو میں بے چین رہتاہوں۔ اسی بے چینی کودور کرنے کیلئے ہم دونوں نے آپس میں مل بیٹھ کرباہم رضامندی سے ایک معاہدہ طئے کرلیاہے کہ صبح سے 12گھنٹے دن میں موبائل میرے پاس رہے گا۔ اور 12گھنٹے رات میری اہلیہ کے پاس ہوگا۔ ویسے اچھی بات یہ ہے کہ گھر میں چھوٹے بچے نہیں ہیں۔ تین بیٹے ہیں، سب شادی شدہ ہیں۔ اور صاحب اولاد ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے اپنی بیویوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ہم دونوں کو بھی اس بات کی شکایت نہیں۔ زندگی وہ اچھی ہے جو اپنی مرضی کے مطابق جی لیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ جب دل چاہتاہے بچے اپنے ماں باپ سے ملنے ضرور آجاتے ہیں۔ ہنسی خوشی سے رہتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ گویا ہمار اگھر ایک گیسٹ ہاوز (Guest House) کی طرح ہے۔ کھاؤ پیو، مزے کرو اور چلے جاؤ۔
اچھا۔ بات چل رہی تھی اسمارٹ فون کی۔ ہمارے معاہدے کے مطابق شب وروز گذررہے ہیں پتہ نہیں کب تک چلے گا۔ایسے ہی جیسے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کامعاہدہ ہے۔ اگر درمیان میں کچھ گڑبڑہوگئی تو اسرائیل اور فلسطین کی طرح آپس میں بھڑ جائیں گے۔ اسرائیل بم برسائے گا اور حماس راکٹ چھوڑے گا۔ ہردوصورت میں تباہی طئے ہے۔ مل جل کر رہنا ہی بہتر ہے۔ اسمارٹ فون چاہے کسی کے پاس بھی ہو۔ میاں بیوی کی محبت کے آگے ایک اسمارٹ فون کی کیا حقیقت ہے؟
اتنی اچھی سوچ اور دوراندیشی کے بعد ہم اپنے سارے اختیارات سے دستبردار ہوچکے ہیں۔ اب اسمارٹ فون ہے اور ہماری اہلیہ ہیں۔ خوب گذررہی ہے دودیوانوں کی۔ اور ہم، تماشائی ہیں۔ معصوم تماشائی۔ کیا آپ بھی تماشائی ہیں؟ اگر ہیں تو کسی کو بتائیے گا نہیں۔ جوچل رہاہے، جیسے چل رہاہے اس کو چلنے دیں۔اس دور میں اسی قسم کے معاہدے کامیاب ہوتے ہیں۔ کامیاب زندگی کاراز اسی طرح کے کامیاب معاہدوں میں پوشیدہ ہے۔ نوٹ کرلیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!