تعلیم نسواں ایک اہم مسئلہ

محمد عباس چمپارنی

0

تعلیم نِسواں دو لفظوں سے مرکب ہے۔ تعلیم ، نسواں ، تعلیم کا مطلب ہے ۔ علم حاصل کرنا اور نسواں ، نساء سے ہے ۔ جسکا مطلب ہے  عورتیں؛ اور تعلیم نسواں سے مراد عورتوں کی تعلیم ہے ۔

اور یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں وہی قوم ترقی کرتی ہے جسکے مرد و زن دونوں ہی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان عالی شان کے علم حاصل کرنا ہر مرد و زن پر فرض ہے ۔

گویا کہ مذہب اسلام نے علم کے میدان میں بھی عورت و مرد کے درمیان تفریق ختم کر کے  عورتوں کے لیے بھی دینی و دنیاوی تعلیم کے حصول پر زور دیا ہے  جس طرح مرد اور عورت معاشرے کے جزوِ لازم اور ایک دوسرے کےلیے لازم و ملزوم ہیں، اسی طرح  قوم و مذہب کی ترقی کا انحصار مرد و عورت دونوں کی تعلیم پر ہے کیونکہ ایک مرد کی تعلیم صرف اسے فائدہ پہنچاتی ہے جبکہ ایک عورت کی تعلیم کئی نسلوں کو سنوار دیتی ہے۔ ہر انسان کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے جہاں سے وہ بنیادی علوم سیکھنا شروع کرتا ہے۔

یہاں پر سوچنے کی بات ہے کہ علم سے عاری ماں، علم کی شمع کیسے روشن کر سکتی ہے جبکہ وہ خود اندھیرے میں ہے؟ لہٰذا ایک تعلیم یافتہ ماں ہی اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرسکتی ہے؛ اور معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا سکتی ہے ۔ کیونکہ عورت کی حیثیت ایک پھول کی ہے جس طرح گلشن کی رونق اور چمک دمک پھولوں سے ہوتی ہے اسی طرح دنیا کی رونق و رنگینیاں عورت سے ہوتی ہے ۔ شاعر کہتا ہے کہ وجودِ زن سے ہے کائنات میں رنگ اگر اس کا وجود نہ ہوتا تو کائنات بے رنگ ہوتی ،  اگر ہم زندگی کے مختلف شعبوں پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ خواتین بعض شعبوں میں اس قدر حاوی ہیں کہ انکی اہمیت کو کسی بھی شکل میں کم کر دینے سے انکی گود میں پروان چڑھنے والی نسل تدبیر اور خود اعتمادی سے محروم ہو جائے گی ۔ اسی لیے اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ ایک عورت کو تعلیم دینا خاندان سنوارنے کے مترادف ہے۔

کیونکہ عورت ایک فرد ہی نہیں بلکہ ایک مکتب ہے جو در اصل معاشرے کو ابتدائی تنظمی جوہر سے روشناس کرتی ہے۔

عورت ناظم بھی ہے اور مجاہد بھی اسلامی تاریخ میں اسکی کئی مثالیں موجود ہیں اسی طرح دنیا کی مختلف اقوام میں ترقی اور اجتماعی سطح پر انقلابی تبدیلیوں کے پیچھے نہ صرف عورت کسی نہ کسی سطح پر موجود رہی ہے بلکہ اس نے کئی محاذوں پر قائدانہ صلاحیتوں کو بھی منوایا ہے گھر بار سے لیکر جنگ کے میدان تک، تعلیم سے لیکر عدالت تک شفاخانوں میں، مسیحائی سے لیکر سائنس کے میدان میں ایجادات تک تاریخ اسکے کردار اور کارناموں سے مزین ہے.

آج بھی اگر ایک پڑھی لکھی اور باشعور ماں کے ہاتھوں اس کی اولاد خصوصاً لڑکی کی تعلیم اور تربیت ہو تو وہ آگے چل کر ایک کار آمد اور مہذب شہری بننے کے ساتھ ساتھ قوم و مذہب کی ترقی اور خوش حالی کے لیے اپنا ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے.

در حقیقت تعلیم ہی وہ زیور ہے جس سے عورت اپنے مقام سے آگاہ ہوکر اپنا اور معاشرے کا مقدر سنوار سکتی ہے مگر افسوس یہ کہ  کچھ ہمارے بزرگ تعلیم نسواں کے متعلق بڑی غلط فہمی کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم صرف لڑکوں کو ہی دینا ضروری ہے  اور تعلیم صرف روزگار کیلئے ہے۔ اس میدان میں صرف مردوں کو ہی آنا چاہیے ،  عورتیں صرف باورچی خانے کے لیے پیدا ہوئی ہیں اور اور انکی زندگی باورچی خانے سے شروع ہوکر دسترخوان پر ختم ہو جاتی ہے.

 اس طرح کی باتیں ہرگز درست نہیں عورتیں بھی انسان ہیں ! اور علم انسان کو جینا سیکھاتی ہے.

اخیر میں حکومتِ وقت اور دانشورانِ قوم و ملت سے درخواست ہے کہ عورتوں کی تعلیم و تربیت کے خصوصی ادارے قائم کریں اور انکی تحفظ کی یقین دہانی کرایں   اسکے علاوہ عورتوں کی تعلیم کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے پروگرام کرایں ! تاکہ عورتوں کے لئے تعلیم کی راہ ہموار ہو سکے اور وہ ملک و قوم کی ترقی میں اپنا نمایاں کردار ادا کر سکیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!