بڑھتی ضروریات و ٹیکنالوجی انسانی وجود کے لیے خطرہ : اسباب و علاج

طہورہ تسنیم بنت محمد ذاکر

0

ماحول:

 ماحول کے لغوی معنی اردگرد کے ہیں۔ یعنی ہر وہ چیز جو جاندار پر اپنا اثر رکھتی ہیں۔ اسے ماحول کہتے
ہیں۔

 اور اگر ہم اسے مجموعی طور پر کہے تو زمین و فضاء اور پانی کو ماحول کہتے ہیں۔ جس میں تمام حیاتیاتی،طبیعاتی اور کیمیائی اجزاء و عناصر شامل ہوتے ہیں،سچ تو یہ ہے کہ جو کچھ کل کائنات میں ہیں وہ ماحول کا حصہ ہے ۔

ماحول کے مطالعہ کو ماحولیات کہتے ہیں۔ ماحول کے مطالعہ سے ہمیں ماحول کے تمام عناصر و عوامل و اجزاء اور ان کی خصوصیات و کمزوریوں کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔

ماحول کا مطالعہ دراصل حیاتیات، ارضیات، معاشیات، جغرافیہ، تاریخ، حیاتیاتی فنون، ارضی سائنس اور ادبی علوم کے مطالعہ پر مشتمل ہوتا ہے۔

آج بڑھتی ٹیکنالوجی اور ایجادات کی وجہ سے ماحول میں آلودگی دن بَدن بڑھتی جا رہی ہیں۔جس سے انسانی وجود خطرے میں ہے۔ایسے میں عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار کرنا نہایت ضروری ہو گیا ہے۔

ماحولیاتی شعور عام طور پر دو قسم کا ہوتا ہے۔

1) شعور برائے شعور:یعنی لوگ ماحول کے بارے میں جانتے تو بہت ہے لیکن جانتے ہوئے عمل نہیں کرتے ۔

2) شعور برائے عمل: یعنی جانتے بھی ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں۔

آلودگی کے اسباب:

1) کارخانوں، گاڑیوں اور چیزوں کے جلنے سے خارج ہونے والا زہریلا دھواں اور ذرّات ۔

2) کارخانوں سے نکلنے والا فالتو اور harmful کیمیائی مواداور پانی۔

3) ٹریفک اور کارخانوں کا شور

4)گھریلو اور دوا خانوں کا کوڑا کرکٹ جراثیم ملا مواد اور آلودہ پانی۔

5) کیمیائی کھاد اور insecticide ادوایات کے اسپرے۔

6) جنگلات کی کٹائی۔وغیرہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

اَلْطَّہُوْرُ نِصْفُ الْاِیْمَاْن٘

 صفائی آدھا ایمان ہے۔

انسان دو چیزوں کا مجموعہ ہیں۔ قلب اور قالب، اور ایمان مکمل ان دو چیزوں کی پاکی سے ہوتا ہے۔

یعنی جس طرح قلب کی، یعنی دل کے اور اندرونی خیالات و سوچ سے روح پاکیزہ رہتی ہے، اسی طرح جسم اور اطراف کو صاف اور پاکیزہ رکھنے سے ماحول پاکیزہ رہتا ہے۔

ہمارا مذہب ہمیں ہر طرح سے صاف و شفاف رکھنا چاہتا ہے اور ظاہری صفائی کا بھی اس کے ہاں اتنا ہی اہتمام کیا جاتا ہے جتنا کی باطن  کی صفائی کا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ظاہری گندگی جس طرح ہماری صحت و معاشرے کے لیے خطرہ ہے، اسی طرح دل و دماغ کو بھی گندہ کر دیتی ہے۔ جو ہمارے اعمال کو ضائع کرنے کے سبب بن سکتی ہے۔

آج ماحول میں دن بدن آلودگی بڑھتی جا رہی ہے۔

 کیونکہ…. انسان لاپروا وغیر ذمہ دار ہوگیا ہے۔

 کیونکہ…. انسان نفس کا غلام ہو گیا ہے۔

 کیونکہ…. انسان دولت کے پیچھے بھاگتے بھاگتے بھول گیا ہے کہ وہ کس طرح سے نئی ایجادات اور لاپرواہی سے ماحول کو آلودہ کر رہا ہے۔

پانی کا غلط استعمال ،موٹر گاڑیوں میں پیٹرول ضائع، اور ان سے نکلنے والا دھواں، hybrid crop کے چکر میں کیمیائی کھاد کا زائد استعمال، جنگلات کی کٹائی وغیرہ ماحول کو آلودہ کرتی جا رہی ہے۔

ماحول انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ اسی ماحول میں انسان پروان چڑھتا ہے اور زندگی کے مراحل طے کرتا ہے۔ اگر ایک نظر اپنے آس پاس کے ماحول پر ڈالی جائے تو یہ بات فکر سے خالی نہیں کے انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنی بیماری کا سامان کر رہا ہے۔ اپنے فضول اور ذاتی مفادات کے لئے نقصان پہنچانے کے لیے تیار کھڑا ہے۔

آلودگی کا زمہ دار خود انسان ہیں۔

آلودگی:

آلودگی کئی طرح کی ہوتی ہیں۔ جیسے فضائی آلودگی، آبی آلودگی،شور وغیرہ آلودگی میں شامل ہیں۔

فضائی آلودگی:

گاڑیوں، کچرے جلانے اور فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں جہاں ماحول کو آلودہ کر رہا ہے وہیں ozone کی پرت میں چھید کر رہا ہے جو کہ زمین کے اطراف اللہ تعالی نے دنیا کو  u.v raysکے  اثرات سے بچانے کے لئے چڑھا رکھے ہے۔

ozone کی پرت میں  چھید کی وجہ سے مختلف امراض….

جیسے جلد کے امراض،کینسر اور دیگر امراض رونما ہو رہے ہیں۔

فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں نہ صرف اوزون کی پرت میں چھید کر رہے ہیں، نہ صرف اس فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کے لئے نقصان دہ ہے۔ بلکہ اطراف کے لوگوں کے لیے بھی مضر ہے۔ ان میں کام کرنے والے مزدور صرف زیادہ سے زیادہ تین سے چار سال کام کر سکتے ہیں۔

کیوں؟

کیونکہ کام کے دوران نکلنے والا دھواں ان کے پھیپھڑوں کو ناکارہ کر دیتا ہے اور وہ کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔بالآخر ان میں کام کرنے کی طاقت و قوت ختم ہو جاتی ہے۔فیکٹریوں کے اطراف میں رہنے والے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

عزیز ساتھیو!!!!

قیامت کے دن ان فیکٹریوں کے مالکوں سے جب پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنے فائدے کے لئے انسانی زندگیوں سے کیوں کھیلا؟ تب شاید ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا۔

گاڑیوں کے استعمال کی اگر ہم بات کریں۔اگر ایک گھر میں پانچ افراد ہے۔ تو وہ پانچ گاڑیاں بھی رکھتے ہوں گے۔ ہر ایک کی اپنی گاڑی ہوگی اور اگر ان میں سے کسی ایک کو تھوڑی دور بھی جانا ہو تو وہ گاڑی یا موٹر سائیکل پر جاتے ہیں جو فضا کو گندا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آبی آلودگی:

آبی آلودگی بھی دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں۔ شہروں ،صنعتوں اور فیکٹریوں کا گندا پانی اور گندہ مواد سب کچھ ندی، نالوں،دریاؤں میں پھینک دیا جاتا ہیں۔ جس سے یہ پانی زہریلا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیلوں اور دریاؤں کا پانی آلودہ ہوتا جا رہا ہے اور یہی گندے پانی کی وجہ سے زمین بنجر ہو رہی ہے۔ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ بہتا ہوا پانی صاف ہوتا ہے لیکن اب یہ صورتحال نہیں رہی،سائنس کی تحقیق کے مطابق بہتا ہوا پانی بھی آلودگی سے پاک نہیں۔

بیکار صنعتی مادّے جب بغیر صاف کیے دریاؤں میں پھینک دیئے جاتے ہیں تو یہ کسی نہ کسی صورت میں انسانی جسم کے اندر پلتے ہیں اور خطرناک قسم کی بیماریاں جنم لیتی ہے جن سے بچے اور بوڑھے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ان بیماریوں میں کینسر ،دماغ کی بیماریاں، پھیپھڑوں کی بیماریاں ،آنکھ، ناک کی بیماریاں وغیرہ شامل ہیں۔

شور:

بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کی وجہ سے آج انسان جنگلات کی کٹائی کر تا جا رہا ہے۔جو کہ انسانی وجود کے لئے بہت ہی زیادہ خطرناک ہے۔جنگلاتsound کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اور یہ جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے آج sound pollution دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

علاج:

1)گاڑیوں کے دھواں اور شور سے بچنے کے لئے بلاضرورت گاڑیوں کا استعمال نہ کریں بلکہ ہر ممکن پیدل چلنے کی کوشش کریں۔

2)جہاں ضرورت ہو وہی ٹیکنالوجی کا استعمال کرے بلاضرورت ٹیکنالوجی استعمال کرکے وقت اور اشیاء کو برباد نہ کریں۔

3)پانی کے اندر کی مضر جراثیم و معمولی نوعیت کی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے پانی ابال کر پینا چاہیے۔

4) گھریلو فضلہ ،فیکٹریوں سے نکلنے والا غیر ضروری مادےکو ادھر ادھر پھینکنے یا پانی میں پھینکنے کے بجائے ریسائکلنگ پروسیس کر کے بطورِ کھاد استعمال کریں۔

5) پلاسٹک بیگز کے بجائے کپڑے کے تھلیوں کا استعمال کریں۔

6) شجرکاری کااہتمام کریں۔

7) صفائی کا دھیان رکھیں۔

انسان جس آب و ہوا میں سانس لیتا ہے جس ماحول میں زندگی گزارتا ہے اس کی شفافیت اور پاکیزگی نہایت ضروری ہے۔ اس سے خود انسان کی بلکہ زمینی تمام جانداروں کی صحت وحیات وابستہ ہے۔ لہذا فضائی آلودگی ،آبی آلودگی اور شور کو قابو کرنے کے لیے خود انسان کو اپنی ضروریات کو کم کرنا ہوگا۔

ان سب میں سب سے اہم صفائی کا سب سے زیادہ خیال کریں۔

اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتے ہے۔

وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ

اور اللہ تعالی خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔

ماحول کی آلودگی اور مختلف بیماریوں سے بچنے کے لئے انسان کو فرداً فرداً اور جماعت میں بھی کوشش کرنا ہوگا کہ کس طرح ماحول کو پاکیزہ رکھا جاسکے۔

جس کا ہمیں اور تمام جانداروں کو دنیاوی فائدہ ہیں۔لیکن آخرت میں بھی ہمیں اجر عطا کیا جائے گا۔

 اللہ تعالی تو ہمارے نیک خیالات اور تصورات پر جزائے خیر عطا کرنے پر قادر ہے تو سوچئے جب ہم اپنی ضروریات کو مختصر کر کے ماحول کو آلودگی سے بچانے کی کوشش کریں گے تو ہمیں کیا خوب اجر ملے گا۔

اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتے ہے۔

فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ

چنانچہ جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔

لہذا ماحول کو آلودہ کرنے والی چیزوں کا مختصر اور ضرورت کے وقت استعمال کرے۔اور ہر کام فی سبیل اللہ اور حقوق العباد سمجھ کر کریں۔

 اور لوگوں کو “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کا حکم دیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ۔

اے اللہ!! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو تمام بیماریوں اور فسادات سے بچائیے۔اور نیک توفیق عطا فرمائیں۔

آمین یا رب العالمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!