فیروزبیدری اور پِرَت نامہ

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔ کرناٹک۔ موبائل:۔ 9141815923

1

فیروزبیدری کاپورانام قطب الدین قادری فیروزؔبیدری تھا۔ وہ دکنی زبان کااستاد شاعر گذراہے۔ جس نے بہمنی اور بریدی سلاطین کے ادوار کو دیکھاہے۔ بیدر سے تعلق رکھنے والے قطب الدین قادری نے اپنے دوتخلص رکھے تھے۔ ایک فیروز ؔ دوسرا فیروزی۔ (پِرَت نامہ۔ صفحہ 38، مرتبہ: ڈاکٹر مسعود حسین خاں، اشاعت؛1965؁ء)
پِرَت نامہ (PIRAT NAMA)فیروزبیدری کاوہ مجموعہ ہے جس کو ڈاکٹر مسعود حسین خاں نے مرتب کیاہے۔ جو نسخہ ہمارے پیش نظر ہے وہ سلسلہ مطبوعات ”قدیم اردو“ شعبہئ اردو، عثمانیہ یونیورسٹی 1965؁ء ہے۔ جس کے ٹائٹل پر لکھاہے۔
پِرَت نامہ
از
قطب الدین قادری ”فیروز“ بیدری
(استاد دبستان گولکنڈہ)
مرتبہ: ڈاکٹر مسعود حسین خاں
”پِرَت نامہ“ کتابچہ 38صفحات پر مشتمل ہے۔ جس کا14صفحات کا مقدمہ مسعود حسین خاں نے 13ستمبر 1965؁ء کو حیدرآباد میں خود لکھاہے۔15صفحات پر مثنوی ”پِرَت نامہ“ کے120اشعار
درج ہیں جبکہ روایت کے مطابق پرت نامہ کے 121اشعار ہونے چاہیے۔ ایک شعر کہیں گم ہوچکاہے۔جس کی تصحیح مثنوی کے آخرمیں دی گئی فرہنگ میں کردی گئی ہے۔ لکھاہے ”پرت نامہ“ کے مقدمہ میں یہ بیان غلط درج ہوگیاہے کہ مثنوی کے کل اشعار (۱۲۱) دستیاب ہوگئے ہیں۔ شعر نمبر 44کااس سلسلہ میں حوالہ دیاگیاتھا۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ دستیاب ابیات کی کل تعداد (۰۲۱) ہے“ (ص36) مثنوی کے 5صفحات پر فرہنگ دی گئی ہے۔ اور باقی 2صفحات ضمیمہ کے لئے مختص ہیں۔جبکہ ابتداء میں 2صفحات کتاب کے سرورق سے متعلق ہیں۔ ”پِرَت نامہ“ ہذا کے مقدمہ کے مطابق فیرو زبیدری کا تعارف کچھ اس طرح ڈاکٹر مسعود حسین خاں نے کروایاہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
”قطب الدین (قطب دین) قادری المتخلص بہ ”فیروز“ بیدرکانامور شاعر اور دبستان گولکنڈہ کا مسلم الثبوت استاد تھا۔ وجہی اور ابن نشاطی جیسے اساتذہ سخن نے فیروز کو استاد تسلیم کیاہے اور اپنی شاعری کی اس سے داد چاہی ہے۔ وجہی اپنی تصنیف ”قطب مشتری“ (سنہ 1609؁ء) میں دوجگہ فیروز کاذکر ان الفاظ میں کرتاہے:
کہ فیروز محمود اَچتے جو آج
تو ا س شعر کوں بھوت ھوتا رواج
کہ نادر تھے دونوں بی اس کام میں
رکھیا نیں کتے بول اَچھوں نام میں
آگے چل کر اسی مثنوی میں اس کی شان نزول کاذکر کرتے ہوئے فیروز کی زبانی اپنے شعر کی فضیلت یوں بیان کرتاہے:
کہ فیروز آخواب میں رات کوں
دعا دے کے چومے مرے ھات کوں
کہیا ہے توں یو شعرایسا سَر میں
کہ پڑے کوں عالم کرے سب ھوس
قطب مشتری کے تقریباً چھیالیس برس کے بعد ایک دوسری اہم تصنیف ”پھول بن“ (سنہ 1655؁ء) میں گولکنڈہ کے دوسرے نامور شاعر ابن نشاطی نے وجہی سے زیادہ فراخ دلی کے ساتھ فیروز کی استادی کو ان الفاظ میں تسلیم کیاہے:
نہیں وہ کیاکروں فیروز استاد
جو دیتے شاعری کی کُچ مری داد
(ص۔3اور4)
”قطب الدین فیرو ز بیدر کا باشندہ تھااور سلسلہ ئ قادریہ سے نسبت رکھتاتھا۔وجہی اور ابن نشاطی کی شہادت کے علاوہ کوئی دوسری شہادت ایسی نہیں ملتی کہ فیروز کو گولکنڈہ سے وابستہ کیاجاسکے۔ ان شہادتوں کی روشنی میں یہ قیاس کیاجاسکتاہے کہ فیروزسلطنت بہمنیہ کاچراغ ٹمٹماتے دیکھ کر سولھویں صدی کے وسط میں بیدر کی سکونت ترک کرکے گولکنڈہ کے نئے علمی وادبی مرکز میں آگیاہوگا اور ابراھیم قطب شاہ کی سخن نوازی سے مستفید ہوکر بہت جلد دبستان گولکنڈہ کا استاد تسلیم کیاجانے لگا ہوگا۔ اس کا اصل وطن بیدرتھالیکن آخری زمانے میں اس کاگولکنڈہ میں مقیم ہوجانا اور وہاں کے شعرا میں اہم مقام حاصل کرلینا یقینی امر ہے۔ (ص7)فیروز کے پیر ”مخدوم جی“ جن کااصل نام شیخ محمد ابراھیم تھا شیخ محمد ملتانی بیدر کے مشہور بزرگ کے صاحبزادے تھے۔سلاطین گولکنڈہ کو اس خاندان سے بڑی عقیدت تھی۔ ان کاانتقال بیدر ہی میں سنہ 973ھ (سنہ 1564؁ء) میں ہوا۔ چوں کہ ”پرت نامہ“ میں ایسے داخلی شواہد موجود ہیں جن سے شیخ کامثنوی لکھتے وقت حیات ہونا ثابت ہے اس لئے یہ یقین سے کہا جاسکتاہے کہ اس مثنوی کاسنہ تصنیف سنہ 1564؁ء سے قبل ہوگا (ص8)فیروز اور قریشی کی زبان میں حیرت انگیز مماثلت ملتی ہے۔ ان کی تصانیف کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ دکھنی اردو اپنے ارتقاء کے تمام مدارج بیدرمیں طے کرچکتی ہے۔ تاآنکہ فیروز ایک پختہ زبان اور اسلوب کے ساتھ گولکنڈہ پہنچتاہے۔ میراخیال ہے کہ فیروز کی دبستانِ گولکنڈہ میں وہی اہمیت تھی جو استاد ذوق کی دبستانِ دہلی یا شیخ ناسخ کی دبستانِ لکھنؤ میں تھی۔یعنی بنیادی طورپر وہ استادتھا اور استاد کی حیثیت سے زبان داں تھا۔ (ص13) اس لسانی میلان کے تعین اور بیدر سے گولکنڈہ منتقل کرنے میں استاد فیروز کازبردست ہاتھ ہے اور اس لئے کوئی تعجب کی بات نہیں اگر اس کی استادی کا شہرہ گولکنڈہ میں اس کے انتقال کے ایک صدی بعد تک قائم رہا۔“ (ص15)
ڈاکٹر مسعود حسین خاں کو ”پِرَت نامہ“ کی ترتیب وتہذیب کے وقت رفیق شعبہ (عثمانیہ یورنیورسٹی) ڈاکٹر غلام عمر خاں سے بعض مشکل مقامات حل کرنے میں مدد ملی جبکہ شاگرد سید بدیع حسینی نے ادارہئ ادبیات اردو کے نسخہ کی اصل کے مطابق نقل فراہم کی جس کے لئے انھوں نے دونوں کاشکریہ اداکیاہے۔

1 تبصرہ
  1. محمدیوسف رحیم بیدری کہتے ہیں

    جزاک اللہ خیرا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!