مجھے جانا ھے بہت اونچا حد پرواز سے،

مضمون نگار عبدالکریم برگن الکل کرناٹکا 8867164963 8618623138

0

حد پرواز اس حد کو کہتے
ہیں جہاں سے آگے جانا منع ہوتا ہے۔ حد وہ انتہا ہے جہاں تک آدمی جا سکتا ہے اس کے آگے ممانعت ہوتی ھے ۔ جس طرح کسی ملک کی حدیں ہوتی ھیں۔حد کراس کرنا ھو تواس ملک کی پرمیشن کی ضرورت ہوتی ہے ۔اگر کوئی ملک حد سے آگے بڑھتا ہے تو قانونی کارروائی ہوتی ھے اور بعض اوقات مقدمے بھی درج ہوتے ہیں ۔ جنگ سے بھی سابقہ پیش آسکتا ہےاور کیس UNO تک پہنچتا ہے ۔۔ لیکن اقوام متحدہ تک پہنچ بھی گیے تو کیا ملتا ہے ، خدا ھی ملا نہ وصال صنم ،کی بات سو فی صد صادق آتی ھے۔

کیونکہ اقوام متحدہ بہت سے معاملات میں اقوام متفرقہ ثابت ھو ا ہے ۔ پوری دنیا میں کس کی چلے یہ بہت اہم سوال ہے ۔ اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ امریکہ جی ورلڈ نیتا ہیں ، روس تو دم توڑ چکا ہے اب صرف امریکہ ہی کے ڈنکے پورے عالم میں بج رہے ہیں ،اس لئے کس چلے تو ہم مجبوراً یہی کہیں گے کہ امریکہ آقا کی چلے، کیونکہ وہ اپنی خدائی منوا چکا ہے اور وسائل و مال ودولت میں ، علم و ذہانت میں ترقی میں ،کوئی دوسرا اس کے مد مقابل نہیں ہے ۔
خان صاحب کیونکہ جہاں دیدہ آدمی ہیں ، ہماری اس بات پر آپ نے کراس کو شن کیا اکہ آپ امریکہ کی تعریف کے پل باندھ رہے ہو ، جب کہ امریکہ بھی کو رونا سے ویسا ہی متاثر ھے جیسے دوسرے ممالک ، بلکہ کچھ اس سے بھی کچھ زیادہ ہی-
ویسے خان صاحب بہت کم گو ہیں ، مگر جب بات کرتے ہیں تو بڑے پتہ کی بات کرتے ہیں ۔ خان صاحب کی بات سن کر ہمارا دماغ چکرا گیا ۔ بات بھی صحیح کہا اُنہوں نے ، ان کی بات میں وزن تھا ، اللہ نے ہمیں ایسی سمجھ دی ہے کہ دلایل اور حقیقت کے آگے ہماری زبان چپ ہو جاتی ہے جیسے کسی نے لاک کر دیا ھو، اورھم بیکار کی بحث میں پڑ کر حجت الکھیکڑی بننا پسند نہیں کرتے۔ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ھیں۔ یہ کرونا اپنی شکلیں بدل رہا ہے۔ آج کل وہ ڈیلٹا ویرینٹ پلس
(Delta plus variant)
شکل اختیار کر گیا ہے، کبھی اپنا رنگ بدلتا ہے کبھی روپ ،
اس پر ہمیں بہادر شاہ ظفر کی غزل یاد آ گئی
میرا رنگ و روپ بدل گیا
میرا یار مجھ سے بچھڑ گیا
میں بڑے بروگ کی ہوں صدا
میں بڑے دکھی کی پکار ھوں۔

ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ خرابی کہاں ہے۔ کورونا جی ہماری نظر میں کچھ زیادہ سرکش معلوم ہوتے ھیں۔اپنے پینترے بدلنے کے لیے انہوں نے آقا امریکہ سے باقاعدہ اجازت نہیں لی ھی ۔ اس کو سر کشی نہیں تو اور کیا کہیں گے؟ اس طرح کی عدم اطاعت سے آقا جی کے تیور تبدیل ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ۔ظاہر ھے اس سے آقا کی طبیعت میں غصہ اور جھنجلاہٹ کے آثار دکھائی دیتے ھیں۔ ا
ادھر ہمارے ملک عزیز ہندوستان میں تیرا ریاستوں پر کرونا جی قبضہ جمائے بیٹھے ہیں آندھرا، کیرلہ،اتر پردیش اور اڑیسہ کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں میں کورونا نے اپنی شہرت کی آخری حد چھو لیں ہیں۔کورونا کے رب نے انہیں کھلی چھوٹ دے رکھی ھے، اسے حکم ہے کہ جا دنیا میں خوب تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کر،وہ کام کر جس کا تجھے حکم دیا جارہا ہے۔ نہ تو روس کی سن نہ آقا امریکہ کی، نہ ھند کے مصیبت زدہ لوگوں کی۔یکسو ھو کر تو میری بندگی بجا لا۔
لوگو! سوچو کہ
کس نے سکھائے کرونا کو آداب خداوندی۔ وفا کی درس درسگاہوں میں کوروناجی یہ اطاعت و فرمانبرداری ھے تو آپ نے اپنے رب سے جو و فا ے عہد کیا تھا, اس کی پاسداری کا آپ کتنا خیال کرتے ھیں؟۔ اگر اقبال زندہ ہوتے تو پتہ نہیں کیا کیا کہہ جاتے۔ بیدار مغز کورونا نے اپنی مختلف شکلوں میں، تھکے بغیر، رکے بغیر اور جھکے بغیر، اپنا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ کہہ رہا ہے کہ
میں کہاں رکتا ہوں عرش و فرش کی آواز سے
مجھے جانا ہے بہت اونچا حد پرواز سے
آخر میں خان صاحب نے آخری نصیحت جو کی وہ یاد رکھنے کے قابل ھے۔وہ یہ کہ تم اپنے رب کا دامن مضبوط پکڑے رہو تمہارا بیڑا پار ہو جائے گا۔

آج بھی خان صاحب کی آواز کانوں میں گھول رہی ہے ۔پھرمیں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ
رب کسے کہتے ہیں؟
اس کے دامن سے کیا مراد ھے؟ اور مضبوط پکڑنے کے معنی کیا ہیں؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!