بسوا کلیان امن و سلامتی کا شہر جہاں صوفی اورسنت حضرات نے انسانیت کا درس دیا۔۔ محمد نعیم الدین بسوا کلیان

0
بسواکلیان ملک بھر میں اپنی منفرد شناخت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔بسواکلیان کی سرزمین پر کئی مذہبی رہنماگذرے ہیں جنہوں نے بسواکلیان کو امن و شانتی اور انسانیت کا درس دینے عالمی مرکز بنایاتھا۔
 بسواکلیان میں حضرت تاج الدین شیر سوارؒ کے علاوہ بہت سے اولیاء اللہ مدفون ہیں جنہوں نے امن و شانتی اور انسانیت کے پیغام کو عام کرنے کےلئے کوششیں کی تھیں۔ ,چالوکیہ دور کے حکمرانوں نے یہاں حکومت کی جس کی یادگار کے طور پر  مشہور قلعہ موجود ہے  جہاں راجہ بیجل کے بعد نوابوں نے بھی حکومت کیے ہیں جس کی یاد گار کے طور پر  بارگاہ حسین  تعمیر ہے۔اس کے  علاوہ 12ویں صدی کی یادگار شری مہاتما بسویشور کا قائم کردہ انوبھومنٹپ یکجہتی کی مثال ہے۔ انہی جگہوں پر ملک کے دوسرے مقامات سے لوگ امن وشانتی اور انسانیت کا درس حاصل کرنے آتے رہے ہیں اور ملک کے دوسری ریاست میں اس پیغام کو عام کرتے رہے۔ بسواکلیان سیاسی نقطہ نظر سے بھی اہم رہا ہے۔ یہاں پر جتنے اراکین اسمبلی گذرے ہیں انہوں نے بسواکلیان کی ترقیاتی کاموں کی جانب خاص توجہ دی ہے۔ ریاستی حکومت نے 12 ویں صدی کی یادگار انوبھو منٹپ کی ترقی کےلئے  600کڑوڑ روپے جاری کئے ہیں۔ اس کے علاوہ پچھلے دنوں میں بسواکلیان تعلقہ کو ضلع کا درجہ دلانے کی کوشش کا آغاز بھی  کیا گیا ہے۔
نیشنل ہائی وے کے قریب بسواکلیان میں آٹو نگر جو ہزاروں خاندانوں کیلئے معاش کا ذریعہ ہے قائم ہے، تعلقہ میں بڑے بڑے تعلیمی ادارے موجود ہیں، یہاں کے طلبہ ملک و بیرون ملک میں برسرروزگار ہیں۔ لیکن پچھلے کچھ وقت سے بسواکلیان کے سیاسی میدان میں بھونچال برپا ہوگیا ہے۔ بسواکلیان کی عوام کہیں نہ کہیں ایسے لیڈران کو منتخب کرنے میں ناکام رہے ہیں جو ان کے مسائل حکومت تک پہنچائے اور انہیں حل کرے۔ بسواکلیان ہمیشہ ہندومسلم یکجہتی میں مثال رہا ہے۔لیکن یہاں پر بھی فرقہ وارانہ ماحول گرمایا جارہا ہے۔ منتخب عوامی نمائندے بسواکلیان کو ترقی کی طرف لے جانے کی بجائے فضول کاموں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں متخب ہوئے رکن اسمبلی کی سوشل میڈیا پر گردش کررہی ویڈیوز بتاتی ہیں کہ وہ ترقی کی بجائے کن کاموں میں مصروف ہیں۔ کہیں ناچ گانوں میں تو کہیں بے وجہ بحث و مباحث میں، عوام کی جانب سے منتخب کیا گیا نمائندہ ساری عوام کیلئے ایک نمونہ ہوتا ہے لیکن یہاں ایک الگ تماشہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لہٰذا بسواکلیان کی عوام کو چاہیئے کہ ایسے نمائندے منتخب کرے جو سارے مذاہب کی عزت کرے، سبھی مذہبی رہنماوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے، عوام میں فرق کئے بغیر سبھی کی ترقی کے لئے کام کرے۔
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!