اردو اسکولوں میں داخلہ کرانے اولیائے طلبہ سے یاران ادب کی اپیل

0

بیدر۔ 9/جون (محمدیوسف رحیم بیدری) یہ انتہائی مسرت کی بات ہے کہ ریاست کرناٹک میں 15جون سے اسکولوں میں داخلوں کاآغاز ہونے جارہاہے ۔ یہ داخلے 30جون تک جاری رہیں گے اوریکم جولائی سے کلاسیس کا باضابطہ آغاز ہوگا۔چونکہ ریاست میں کورونامتاثرین کی تعداد بتدریج کم ہورہی ہے، ایسے میں اگر اسکول کھل جاتے ہیں تو یہ ہماری نئی نسل کی تعلیمی تربیت کے لئے بہتر بات ہوگی جس کاخیرمقدم اردو کی تعلیمی، تہذیبی اور ادبی تنظیم یاران ادب کرتی ہے۔یہ صحافتی بیان یاران ادب بیدر کے عہدیداران جناب سید منورحسین صدر، جناب محمد یوسف رحیم بیدری جنرل سکریڑی،اور رخسانہ نازنین جوائنٹ سکریڑی نے مشترکہ طورپر دیاہے۔ اور اولیائے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے نونہالوں کو داخلہ اردو اسکولوں میں کروائیں۔ یہ بات اسلئے بھی کہی جارہی ہے کہ آئندہ انجینئرنگ کی تعلیم اردو میں ہوگی۔ جبکہ IASاورIPSمقابلہ جاتی امتحانات اردو زبان میں دینے کے مواقع پہلے سے موجودہیں۔ جو طلبہ اپنی مادری زبان اُردومیں تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان کی ترقی کے مواقع آئے دن بڑھ رہے ہیں۔ اور جو طلبہ انگریزی اسکولوں سے پڑھ رہے ہیں، فیس کے مسئلہ کو لے کر خانگی مدارس جس طرح کاقابل مذمت رویہ اولیائے طلبہ اور طلبہ کے ساتھ اختیار کررہے ہیں وہ اظہرمن الشمس ہے۔ اسلئے طلبہ وطالبات کو اُردو سے تعلیم دلائیں اوراپنے بچوں کے اخلاق اوران کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ پریس نوٹ میں عربی مدارس کے ذمہ داران سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ علم عروض کو بھی اپنے نصاب میں شامل کریں تاکہ طلبہ کی ادبی صلاحیتیں پرورش پائیں اور وہ ادب کی اشاعت میں لگ سکیں۔یاران ادب کے مذکورہ عہدیداران نے اردو زبان کے جدیدطرز کے اسکولوں کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیااور کہاکہ یہ کام شہر کے ساتھ ساتھ دیہاتوں میں بھی انجام دیاجانا چاہیے۔مادری زبان کوچھوڑ کرترقی کے خواب دیکھنادراصل نئی نسل کوآدھاتیتر اور آدھا بٹیر میں تبدیل کرنے کے مترادف ہوگا۔ انھوں نے ملت کادر درکھنے والے انگریزی اسکولوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اردوزبان اور نئی نسل کے بہتر مستقبل کے پیش نظر اپنے اسکولوں میں اردو کو دوسری زبان کی حیثیت سے پڑھانانہ بھولیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!