مہاراشٹر میں پانچ اردو گھر کی تعمیر قابل تقلید اقدام، کرناٹک کے 400اردو اسکولوں میں انگریزی میڈیم اسکولوں کاآغازغیردستوری شعراء، ادبا،ناقدین اور مصنفین کی جانب سے صحافتی بیان

0

بیدر۔3جولائی۔بیدر کے معروف اردو شعراء ادبا، ناقدین،مصنفین اور اردو جہدکار مولوی محمد امیرالدین امیرؔ، محمد یوسف رحیم بیدری، سیدلطیف خلش، ؔرخسانہ نازنین، محترمہ سید ہ وسیم بانو،جناب محمد کمال الدین شمیم ؔ،نوشاد بیگم، محمد شجا ع الدین منہلی وغیرہ نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے مہاراشٹر حکومت کے اس اقدام کی تعریف کی ہے کہ مہاراشٹر میں 30کروڑروپئے کے صرفہ سے 5اردو گھر کی تعمیر کااعلان کیاگیاہے۔ ہم وزیراعلیٰ مہاراشٹر جناب ادھو ٹھاکرے کے اس اقدام کو ہندوستانی زبانوں کی بقاکے لئے اٹھایاگیا مثبت قدم سمجھتے ہیں جس میں ہندوستانی تہذیب اور تمدن پنہا ں ہے۔اسی کے ساتھ مذکورہ شعراء، ادباء اور ناقدین نے ریاست کرناٹک کے400 سرکاری اردواسکولوں میں انگریزی میڈیم اسکول کھولنے کے اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ اقدام غیردستوری ہے۔ کیونکہ ہرکسی کو اپنی مادری زبان کے بچانے اور اس کو پھیلانے کاحق حاصل ہے۔ حکومت کرناٹک جس طرح کے اقدامات کررہی ہے وہ اردو زبان کے حق میں قطعاً نہیں ہیں۔ کرناٹک کی بی جے پی حکومت کو چاہیے کہ وہ انگریزی اسکول اگر قائم کرناچاہتی ہے تو اس کے لئے علیحدہ سے اسکولوں کو کھولنے کے انتظامات کرے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ ریاستی حکومت فوری طورپر کرناٹک اردو اکادمی کو بحال کرے۔ جب سے بی جے پی حکومت برسراقتدار آئی ہے اکادمی غیر فعال ہوکر رہ گئی ہے۔ کرناٹک اردو اکادمی کاکوئی چیرمین ہے اور نہ ہی اراکین اکادمی نامزد کئے گئے ہیں۔ رجسٹرار کے توسط سے اکاڈمی چلانا غیرجمہوری ہے۔ آن لائن مشاعروں اور ویبناروں میں مصروف اردوشعراء، ادباء، لیکچررس اوراردو ریسرچ اسکالرس سے بھی مولوی محمد امیرالدین امیرؔ، محمد یوسف رحیم بیدری، سیدلطیف خلش، ؔرُخسانہ نازنین، محترمہ سید ہ وسیم بانو،جناب محمد کمال الدین شمیم ؔ، نوشاد بیگم، محمد شجا ع الدیننے اپیل کی ہے کہ حکومتوں کے متضاداور مثبت ومنفی فیصلوں پراپنی آواز بلندکرتے رہیں۔ جہاں کہیں اردو کے حق میں حکومتیں اقدامات کررہی ہیں انھیں سراہیں اور جن مقامات سے اُردو کو توڑنے اور اس کے خلاف سازش کی خبریں آرہی ہیں، اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کریں اور حکومتوں کوباضابطہ یادداشت پیش کرتے ہوئے اردو زبان اور ادب کاتحفظ کریں۔ علمائے کرام سے بھی یہی گذارش کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!