بسوا کلیان میں پروش کٹہ اور وہاں کے عوامی مسائل کو لے کر ترقیاتی کام کرنے حکومت کیے مطالبات : ملّکارجن کھو با کا بیان

0
Post Ad

بسواکلیان: (نعیم الدین صحافی)سابقہ رکن اسمبلی ملیکارجن کھوبا نے شہر کے پرش کٹہ کے ترقیاتی کاموں کو لے کر منتخب نمائندوں اور بسواکلیان ڈیولپمنٹ بورڈ پر سوال کھڑے کئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پرش کٹہ کی ترقی کے لئے 20 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں لیکن اب تک بسونا کا گھر ٹین شیڈ میں پڑا ہوا ہے۔ چاروں طرف افراتفری کا ماحول ہے کسی کو پتہ نہیں چل رہا کہ پیسہ کہاں خرچ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے منعقدہ پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ بی کے ڈی بی بورڈ سے جب معلومات مانگی گئیں تو بورڈ نے کہا کہ ان کے پاس پرش کٹہ سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہیں ۔ اگرچہ ایک دستاویز فراہم کی گئی ہے جس میں 3.50 لاکھ شیڈ کی قیمت بتائی گئی ہے لیکن دیکھنے سے معلوم ہوتا کہ اس کی قیمت 35 ہزار بھی نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملہ کہ انچارچ افسر کے ذریعہ تحقیقات کرائی جائیں۔ پرش کٹہ کی ترقی کی آڑ میں یہاں موجود نندی بت کو آدھی رات میں کسی کو اعتماد میں لئے بغیر کہیں اور منتقل کیا گیا۔ پرش کٹہ کے اطراف سڑک کی توسیع کے لیے وہاں موجود مکانات کو منہدم کیا گیا اور مکان مالکان کو دوسری جگہوں پر زمین فراہم کی گئی ہے جہاں پر عوام کے لیے کوئی سہولت میسر نہیں یے۔ اس موقع پر بسویشور کمیٹی کے صدر بسواراج کوراکے، وشواستھا کمیٹی ہیرے مٹھ، آکاش کھنڈالے، سنجیو دیگلورے، سدھاکربرادر و دیگر موجود تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!