بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ اور انہیں انسانی خدمت کے لئے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت،وژڈم انٹرنیشنل اسکول کپل کی جانب سے سالانہ جلسہ کا اہتمام

0
Post Ad

شہر کپل کے ساہتیہ بھون میں وژڈم انٹرنیشنل اسکول کی جانب سے سالانہ جلسہ کا اہتمام ہوا جس میں اسکولی طلبہ کے علاوہ والدین و سرپرست حضرات کی کثیر تعداد شریک رہی۔ کثرت تعداد کے پیش نظر اجلاس دوسیشنوں میں الگ الگ منعقد کیا گیا۔نرسری اسکول کے طلبہ اور ان کے والدین کے لئے منعقدہ اس پہلے سیشن کا آغازتلاوت قرآن مجید سے ہوا‘طالب علم ظفر محی الدین نے سورہ النباء کی تلاوت کی۔اس سیشن میں سیمہ تاج صاحبہ صدر جی آئی او کرناٹکا‘ صبیحہ پٹیل صاحبہ ویلفئر پارٹی آف انڈیا کی مقامی کونسلر‘ سینئر ٹیچر شمیم النساء صاحبہ‘ اسکول کی نائب صدر محترمہ سیدہ مبینہ صاحبہ‘ اسکول کے صدر سید خواجہ معین الدین قادری عرف ضمیر صاحب‘سیدہ آصفہ قادری صاحبہ‘ سیدہ آمنہ صاحبہ کے علاوہ محمد عبد اللہ جاوید صاحب‘ ڈائریکٹر اے جے اکیڈمی فار ریسرچ اینڈ ڈیلوپمنٹ شریک رہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیمہ تاج صاحبہ نے علم کی اہمیت اور فضیلت بیا ن کی‘بتایا کہ علم کے ذریعہ کیسے ایک شخصیت احسن طریقے سے پروان چڑھتی ہے۔آپ نے نئی تعلیمی پالیسی کے تناظر میں صحت مند تعلیم کے حصول کی جانب سامعین کو متوجہ کیا۔اور کہا کہ موجودہ دور میں ایمان کی سلامتی کے ساتھ بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کا انتظام کرنا مسلم معاشرہ کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ اس موقع سے خطاب کرتے ہوئے صبیحہ پٹیل صاحبہ نے بچوں کی تربیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت‘والدین کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔آپ نے قرآن و حدیث کے حوالے سے بتایا کہ بچوں کی احسن انداز سے تربیت پر ہی ہم اللہ تعالیٰ کی جنت کے مستحق ہوسکتے ہیں۔بچوں کو حسن اخلاق سکھانا‘ ان کے نیک کاموں میں تعاون کرنا‘ہر گھر کی پہچان ہونی چاہئے۔آپ نے اولاد پر خرچ کرنیاور ان کے لئے گھر میں سیکھنے سکھانے کا ایک اچھا ماحول فروغ دینے پر والدین کو خصوصیت کے ساتھ متوجہ کیا۔ محترمہ شمیم النساء صاحبہ نے اپنے شاگرد رشید کے زیر انتظام چل رہے اسکول کی ترقی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔آپ نے کہا کہ ایک اعلی مقصد اور اخلاص نیت کے ساتھ ہی نمایاں کارنامے انجام دیئے جاسکتے ہیں۔بہتر تعلیمی نظام میں والدین کے رول کی وضاحت کرتے ہوئیواضح کیا کہ والدین کو اسکول کے نظم و ضبط کا بھرپور لحاظ رکھتے ہوئے اپنے بچوں کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یاد رکھیں جب آپ کے بچے اساتذہ کی قدر کرنے والے بنیں انہیں سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ آگے چل کر آپ کی بھی قدر کریں گے۔ آخر میں محمد عبد اللہ جاوید صاحب نے کہا کہ ہر گھر کا مقصد یہ ہو نا چاہئے کہ اس میں رہنے والے والدین اور ان کی تمام اولادیں جنت میں جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بات کا حکم قرآن مجید میں دیا ہے۔اگر والدین کے پیش نظر جنت ہو تو بچوں کی تیاری بھی اسی لحاظ سے ہوگی۔صرف پڑھنے اور امتیازی نمبرات سے کامیا ب ہونے پر ہی توجہ نہیں ہوگی بلکہ بچوں میں اعلی اخلاق پروان چڑھانے اور انہیں ہر لحاظ سے ذمہ دار بنانے پر توجہ دی جائیگی۔بچوں کی شخصیت جب اعلیٰ اخلاق کے ساتھ پروان چڑھتی ہے تو انہیں دیکھ کر ایسی خوشی میسر آتی ہے جس کا الفاظ میں بیان ممکن نہیں۔لہذا بچوں کی اچھی تعلیم کے علاوہ ان کے اخلاق و کردار پر کڑی نظر رکھنی چاہئے۔یاد رکھیں گھر میں بچے اسکول کا ماحول پیش کرتے ہیں‘ اوراسکول میں گھرکا ماحول پیش کرتے ہیں۔اس کے بعد طالبات نے حمد اورنعت پیش کئے۔نرسری اسکول کے طلبہ وطالبات نے حفظ کردہ سورتیں اور احادیث پیش کیں۔مختلف اصلاحی اور تربیتی موضوعات پر انگریزی‘ اردو‘ عربی اور کنڑا زبانوں میں تقاریر پیش کیں گئیں۔فیانسی ڈریس اور ایکشن کے ساتھ نظمو ں کی پیش کش اورعمدہ لباسوں نے سامعین کا دل جیت لیا۔اس سیشن کے لئے نظامت کے فرائض بی بی شیمہ صاحبہ اور سیدہ صوبیہ صاحبہ نے انجام دی۔دوسرا اجلاس شام میں منعقد ہوا جس میں پہلی سے لے کر پانچویں جماعتوں کے طلبہ اور ان کے والدین وسرپرست حضرات شریک رہے۔ اس کا آغاز سورہ یس ٓ کی تلاوت سے ہوا جس کو طالب علم محمد زید نے پیش کیا۔حمد ونعت کے بعد شہر کپل کے موظف اساتذہ کی شال پوشی اور گل پوشی کی گئی۔ اس موقع سے محمد عبد اللہ جاوید صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمیں اپنے بچوں کو اچھی تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ ملک و ملت کی خدمت کے لئے تیار کرنا چاہئے۔ آپ نے تعلیم‘اخلاق اور خدمت کے تحت بچوں کی بھرپور تربیت کرنے پر اساتذہ اور والدین کی توجہ مبذول کرائی۔ اور اس اہمیت کا اظہار کیا کہ ملک کو امن وترقی کا گہوارہ بنانے کے لئے ہمارے بچوں کی اعلی تعلیم کے علاوہ ان کے اندر خد مت کے جذبہ کو پروان چڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بنیادی طور پر اپنی بندگی کیعلاوہ انسانوں کی خدمت کے لئے دنیا میں بھیجا ہے۔جب یہ اہم مقصد پیش نظر رہے‘اسی وقت ممکن ہے کہ ہمارے بچوں کی احسن انداز سے تعلیم و تربیت کا اہتمام ہوسکے گا۔اس دوسرے سیشن میں بھی طلبہ و طالبات کی جانب سے مختلف دینی‘ ادبی اور کلچرل پروگرام پیش کئے گئے۔قرآن مجید کی مختلف سورتوں کی ترجمانی کے ساتھ تلاوت‘ احادیث کا عربی متن کے ساتھ اردو میں ترجمہ کی پیش کش‘ والدین کی خدمت پر ڈرامہ‘دینی اور عام معلومات پر مشتمل کوئز وغیرہ پیش کیا گیا۔ اس دوسرے سیشن کے پہلے حصہ کی نظامت محمد اشفاق صاحب کے ذمہ درہی جبکہ دوسرے حصہ میں نظامت کے فرائض تنویر بیگم صاحبہ اور مبشرہ فطین صاحبہ نے انجام دی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!