اجلاس مجلس شوریٰ جماعت اسلامی ہند حلقہ کرناٹک منعقدہ 11 تا 13 مئی 2024 ہاسن میں منظورشدہ قراردادیں

0
Post Ad

فلسطین کی موجودہ سنگین صورتحال پر یہ اجلاس انتہائی تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اسرائیل کو امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کے سربراہان کی بے جا تائید نے ظلم و ستم میں بے باک و بے خوف کردیاہے۔ چنانچہ یہ اجلاس ایسے تمام سربراہان مملکت سے اپیل کرتا ہے کہ ظالم کی پشت پناہی سے باز آئیں۔ عوامی سطح سے، بالخصوص یونیورسٹیوں سے اٹھنے والی آوازوں سے صرف نظر نہ کریں ۔ یہ اجلاس طلبا، نوجوانوں اور انصاف پسند عوام کی جانب سے مظلوموں کی حمایت میں اٹھنے والی مضبوط صدائے احتجاج کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتا ہے ۔ مسلم حکومتوں کے سربراہان سے یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ حق کی حمایت کے ایمانی تقاضوں کو پورا کریں، اس راہ میں ہر قسم کی مصلحت اور مجبوریوں سے جلد اوپر اٹھیں۔اس اجلاس کا احساس ہے کہ غزہ میں اس وقت پیش آنے والا استقامت اور شہادت کا بے نظیر عمل ساری دنیا کے لئے ایک عظیم نمونہ ہے۔

پارلیمانی انتخابات کے طویل مرحلہ کے دوران ملک میں سماجی ماحول کو بگاڑ نے میں حکمراں جماعت اور اس کی ذیلی تنظیموں کا رول انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور نا عاقبت اندیش ہے۔ سیاسی مفادات کی خاطر سماج میں تفریق پیدا کرنا، نفرت کی آگ بھڑکانا جس کے نتیجے میں قتل و خون کے پے در پے واقعات کا رونما ہونا، اس پر خاطیوں کو قانون کے شکنجے سے بچا لے جانے کے طرز عمل کی یہ اجلاس مذمت کرتا ہے۔ مسلمانوں کو ہدف بنا کر نفرت بھڑکانے کے مذموم انداز کی بھی اجلاس شدید مذمت کرتا ہے۔ دراصل ملک شدید بحران سے دوچار ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے تذکرے بے سود ہو چکے ہیں ۔ منی پور کے بد بختانہ حالات سے جانبدارانہ بے رخی، دستوری اداروں کی پامالی، حزب اختلاف کو دبانے، کچلنے، خریدنے کی مذموم حرکتوں اور الیکشن کمیشن کے سوالیہ طرزعمل نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو داغدار کردیا ہے۔ان سب سے توجہ ہٹانے کے لئے نفرت کی آگ بھڑکانے اور مذہبی جذبات کو بر انگیختہ کرنے کی منصوبہ بند حرکتوں کی یہ اجلاس شدید مذمت کرتا ہے ۔

کر ناٹکا میں دو مرحلوں میں پارلیمانی انتخابات کا عمل مجموعی طور پر پر امن رہا۔ یہاں پر بھی فسطائی اور فرقہ پرست لوگوں نے حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی مگر بروقت اس کا نوٹس لے کر حالات کو مکدر ہونے سے محفوظ کیا گیا۔ شوری کا یہ اجلاس اس کو خوش آئند قرار دیتا ہے۔سول سوسائٹی گروپس نے عوام کے اندر سیاسی شعور کی بیداری کے لئے جو منصوبہ بند اور منظم کوشش کی یہ اجلاس اس کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ اس دوران ریاست کے ایک رکن پارلیمان کے ہاتھوں ان گنت عورتوں کی بڑے پیمانے پر عصمت دری کے مذموم واقعات کی خبروں نے ریاست کو شرمسار کردیا ہے۔ یہ اجلاس ایسے مجرموں کو عبرت ناک سزا کا مطابہ کرتاہے۔ اور ان مظلوم اور بے بس عورتوں کے تحفظ اور تلافی کا مطالبہ بھی کرتاہے۔ بعض سیاست دانوں کی جانب سے بد کردار اور ناخلف اولادوں کو اپنا جانشیں بنانے کی ہوڑ اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایسے افراد کو امید وار بنانے کی روش نے ملک کی سیاست کو غلط رخ پر ڈال دیا ہے۔ یہ اجلاس اس صورت پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں انتہائی اشتعال انگیزی کو ملت اسلامیہ نے بالخصوص نوجوانوں نے جس صبر، دانشمندی اور حوصلہ سے بے اثر کر دیا وہ بھی قابل قدر ہے۔اسی طرح پارلیمانی انتخابات میں مختلف ملی تنظیمون اور اداروں کا فعال کردار قابل قدر اور ستائش ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!