وابستگان جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے آن لائن اجتماع سے امیر جماعت، امیرحلقہ کرناٹک اور دیگر کاخطاب

0

بیدر۔ 28مئی.(محمدیوسف رحیم بیدری) بدلتے حالا ت میں نئے نئے طریقوں سے کام کرنا پڑتاہے۔اوراس کے لئے نئے نئے راستے نکالنے پڑتے ہیں۔ تحریکیں لگے بندھے راستوں پر نہیں چلتیں۔ ہم محض فلاحی و رفاہی تحریک نہیں ہیں۔ہم کسی قوم کی بقا کے لئے اٹھنے والی کمیونٹی موومنٹ بھی نہیں ہیں۔ پولیٹیکل موومنٹ بھی نہیں ہیں۔ ہم کوئی ری ایکشنری موومنٹ بھی نہیں ہیں۔ ہم دراصل اسلامی تحریک ہیں اور تحریکوں کے لئے Strategic Thinking کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ ہم مقصد کی طر ف آگے بڑھنے اور کام کرتے رہنے کی فکر کریں۔ہر چھوٹے بڑے کام میں الجھ کررہ جانا اسٹرٹیجک تھنکنگ کی کمی کانتیجہ ہوتا ہے۔ ہمار انصب العین اقامت دین ہے۔ ہماری شناخت داعی الی اللہ کی ہے۔ ہمارااصل کام غیرمسلموں میں اسلام کی دعوت ہے۔مسلم عوام کی ذہن سازی اور ادارے بناناضروری ہے۔ لمبی مدت تک اور امت میں اس کو مقبول بنانے کے لئے مسلسل کام کرناہوگا۔ اس کے نتائج جلد نہیں آئیں گے۔ کسی این جی اوز کے ریزلٹ فوری نظر آتے ہیں لیکن اونچا نصب العین رکھنے والی تنظیم کے نتائج جلد نہیں آتے۔یہ باتیں مولانا سید سعادت اللہ حسینی امیرجماعت اسلامی ہند نے کہیں۔ وہ 27مئی کی شب کرناٹک کے وابستگان جماعت اسلامی ہند کے ٓن لائن خصوصی اجتماع سے ”موجودہ حالات میں تحریکی کام“عنوان پر کلیدی خطاب دے رہے تھے۔ امیرجماعت نے کہاکہ کوویڈکے حالات میں جماعت اسلامی ہند کی مجموعی خدمات لائق تحسین ہیں لیکن انسانوں کی خدمت کرتے ہوئے ہم اپنے اصل پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں۔ یہ حالات دعوت ِ دین کے لئے بہتر موقع پیش کرتے ہیں۔قرآن کہتاہے موت، بیماری، شفا، سب اللہ کی نشانیاں (آیت اللہ) ہیں۔ اس طرح وہ انسان کی تسکین کاسامان کرتاہے۔ اورزندگی کی ناپائیداری کی طرف قرآن متوجہ کرتاہے۔ زندگی اور موت اس لئے ہے تاکہ انسانوں کی آزمائش کرے۔ قرآن کہتاہے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو تمہارے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے پہنچتی ہے۔ جس کاسبب ظلم اور اللہ کی نافرمانی ہے۔ امیرجماعت نے کہا”اب وبا کا زور کم ہورہاہے۔ لاکھوں بچے یتیم ہوگئے ہیں۔ خواتین بیوہ ہوچکی ہیں۔اب جو مسائل آئندہ آنے والے ہیں ان مسائل کوحل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ہم سورہ بلد کے پیغام کو عام کرنے والے بن کرابھریں۔ اس ملک کو جگانے والے بنیں۔ ہمیں ایساماحول پید اکرنا ہے کہ لوگ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے خود تیار ہوجائیں۔ گاؤں کے لوگ یتیموں کو گلے لگائیں۔ سینکڑوں مضبوط کندھے یتیموں کی خبرگیری کے لئے تیار ہوجائیں۔امیرجماعت نے کہاکہ میں نے ایک موقع پر کہاتھا آج بھی کہہ رہاہوں کہ کوویڈ کی سکنڈ ویو اور تھرڈ ویوکو ہم امت کے اندر اصلاح کی Waveبنائیں۔ اس کے لئے منظم طریقے سے تحریک اسلامی بیڑا اٹھائے۔ امت میں تعلیمی ترقی، شعور کی بیداری کاکام بھی کرناہے۔ریسرچ Attitude، تحقیقی مزاج، سائنٹفک ٹیمپر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ صحیح غلط پہچاننے کامزاج بنے۔ واٹس ایپ پر آنے والی ہر تحریر کوخدائی فرمان نہ سمجھ لیاجائے۔سائنس کی کمی، تحقیقی مزاج کی کمی ہمارے اندر ہے۔ غلط معلومات غلط نتائج تک پہنچاتی ہیں۔ کچے کام بڑا عیب ہے۔ قرآن میں کہاگیا”فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیاکرو“ مطلب قرآن یہ چاہتاہے ہمارے معاملات زندگی تحقیق پسندی اور دلیل وبرہان کی بنیاد پر استوار ہونے چاہیے۔ افواہوں اور جھوٹی سچی خبروں پر ہمارامزاج نہ بنے۔آخر میں امیر جماعت مولانا سید سعادت اللہ حسینی نے کہاکہ فلسطین کے مسئلہ پر صرف ایک بات کہناچاہتاہوں۔ اپنی جرأت اورہمت کے ذریعہ فلسطینیوں نے کئی اچیومنٹ حاصل کئے ہیں۔ اپنی جرأت سے انھوں نے اسرائیل کوگھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیاہے۔ فی الحال فلسطین کے تعلق سے ملک میں رائے عامہ بدلنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اس ملک کی عوام کو فلسطین سے متعلق ہمیں بتاناہوگاکہ 80سال پہلے اسرائیل نام کا کوئی ملک اس دنیا میں نہیں تھا۔ برطانیہ کی چیرہ دستی کے ذریعہ اسرائیل کو لاکر1948؁ء میں بسایاگیاہے۔ اور فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کردیاگیاہے۔ اس وقت فلسطین کے 60فیصد لوگ پوری دنیا میں بسے ہوئے ہیں۔ وہ رفیوجی کہلاتے ہیں۔ انہیں اپنی زمین سے نکالاگیاہے جو ایک ظلم ہے۔فلسطین کے حق میں دعا کے علاوہ اس کے حق میں رائے عامہ بیدار کرناوقت کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر سعدبیلگامی امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند کرناٹک نے ”مسئلہ فلسطین۔ حقیقت اور ذمہ داریاں“ عنوان پر پراثر اور معلوماتی خطاب کیا۔ اور کہاکہ حماس کے غیور نوجوانوں نے اسرائیل کی بربریت اور ظالمانہ کارروائی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کے نتیجہ میں جنگ بندی ممکن ہوسکی۔ جولوگ اس جنگ کے دوران شہید ہوئے حماس کے ان بہادروں کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے۔ فلسطین کااصل مسئلہ کیاہے اور یہود کی مسلم دشمنی کی طویل تاریخ کو صحیح تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 1917کو یہودیوں کا قومی وطن فلسطین بنانے کااعلان ہوا۔ اور 1948کو یہودیوں کو لاکر ارض فلسطین پر بسادیاگیا۔ جس فلسطین میں دوفیصد یہودی تھے۔ مغرب کی سازشی کوششوں کے نتیجہ میں 1948میں 33فیصد یہودی ہوئے اور اب ان کی آبادی 75فیصدہے۔ اس وقت فلسطین کاعلاقہ پوری طرح ان کے قبضہ ہے۔ یہ حق وباطل کی لڑائی ہے۔ استحصال اور انصاف کے خون کی لڑائی ہے۔ڈاکٹر سعدبیلگامی نے بتایاکہ اسرائیل کے ناپاک عزائم کوساری دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے۔وہ مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنااورہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیرچاہتاہے جس میں کئی ایک عرب ممالک شامل ہیں۔ ان کے علاوہ حجاز کاایک بڑا علاقہ اور مدینہ منورہ بھی شامل ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہاکہ اس مسئلہ کو فلسطین کاقومی مسئلہ یاعربوں کے مسئلہ کے بجائے امت مسلمہ کیلئے چیلنجنگ مسئلہ کے طورپردیکھنا اس لئے ضروری ہے کہ فلسطین ارض مقدس ہے۔ انبیاء کی سرزمین ہے۔مسجد اقصیٰ مسلمانوں کاقبلہ اول ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سعد بیلگامی نے تمام مسلم ممالک کواتحاد کاسبق یادکرنے اور یاددلانے کی بات کہی۔ اور کہاکہ ہماری قوت کا اصل راز، اپنے مقام کو پہچاننے، ایمان، اطاعت رسول، توکل،اور احتساب میں ہے۔ ذلت اور نکبت کی ایک لمبی تاریخ بنی اسرائیل کی ہمارے سامنے ہے۔ ادھرکچھ راحت انہیں ملی ہے ورنہ ذلت ان کا مقدر ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
جناب سید اکبر علی سکریڑی حلقہ کرناٹک نے ”کوویڈکے دوران HRSکی سرگرمیاں“ عنوان سےPPT کے ذریعہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہیومانٹرین ریلیف سوسائٹی (ایچ آریس) نے کوویڈ کو بنیاد بناکر بہت سارے کام ریاست میں انجام دئے ہیں۔ راجدھانی بنگلور میں آکسیجن، بیڈ،اور ڈاکٹرس کی کمی سے جانوں کانقصان ہواہے۔ بہت سارے لوگ بیڈ بلاکنگ کا غلط کام بھی کئے ہیں۔ بھرشٹاچار کاکام بھی ہواہے۔ ان حالات کوجانتے ہوئے جماعت اسلامی نے اپنی پوری طاقت لوگوں کی خدمت کے لئے جھونک دی۔ ایس آئی او، ایچ آرایس، سالیڈارٹی، اور دیگر ضمنی تنظیموں کو عوامی خدمات کے کام میں لگادیا۔ 18اضلاع میں کوویڈ ٹاسک فورس بنائی گئی ہے۔ ا۔ میڈیکل ایمرجنسی، ۲۔ ریلیف ورک۔ ۳۔ وارروم فورس جیسے کام میں ہمارے ڈیڑھ ہزار سے زائد کارکن لگے ہوئے ہیں۔حکومت کے تعاون عمل سے اور کئی اضلاع میں دوسرے این جی اوکے ساتھ مل کر ہمارے والنٹیر کام کررہے ہیں۔ ہاسن اور گلبرگہ کوویڈسنٹر میں جملہ 92بستر ہیں جس کے ذریعہ مریضوں کی رات دن مفت خدمت کی جارہی ہے۔ سندھنور میں ہیلتھ سنٹراور دیگر مقامات پر بھی کام ہورہاہے۔ آکسیجن کنسنٹیٹر کے علاوہ شمشان گھاٹ میں پہلے دن سے ہی کام ہورہاہے۔ اسی طرح یشونت پور، بسواکلیان، بیدر اور دیگر مقامات پر لوگوں کو کھاناکھلانے کانظم ہے۔ بیدر میں 400سے زیادہ دن سے غریبوں کوکھانے کھلایاجارہاہے۔ڈھائی ہزارمریضوں کی خدمت اور 135لوگوں کو پلازمہ دیاگیاہے۔ ماسک، سینی ٹائزر کی تقسیم،سماجی فاصلہ اور ویکسین کے ضمن میں 11ہزار افراد کاہدف پوراہوا ہے۔ ہماری خواتین بھی کونسلنگ سنٹر چلاتی ہیں اس سے 5ہزار سے زائد خواتین نے فائدہ اٹھایا۔خواتین کا منگلور اور اڈپی میں کام ہے۔ ڈاکٹر س ہیلپ لائن میں 32ڈاکٹرس ہیں۔ 200سے زیادہ افراد کی تدفین کی گئی ہے۔جن میں 10فیصد سے زیادہ برادران وطن ہیں۔ خوشی کی بات ہے کہ ایچ آرایس کے کام دیکھ کر عظیم پریم جی اور اور دیگر تعاون کررہے ہیں۔
جناب محمدیوسف کنی معاون امیرحلقہ کرناٹک نے افتتاحی کلمات پیش کئے اور کہاکہ آج انسان ظلم وزیادتی کا شکارہے۔ مختلف طبقات کے لوگ ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں۔ ہم جنہیں اچھے افراد سمجھ کر ملک ومعاشرے کے لئے منتخب کرتے اور حکمران بنادیتے ہیں وہی اپنے عوام پر ظلم کے نئے نئے طریقے سوچتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ آج خود انسان بھی اپنے مقام سے ناآشناہوچکاہے۔ وہ اپنے مالک کاانکار کرتاہے۔ اور سینکڑوں خداؤں کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دیتاہے۔دوسری جانب مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ آج کامسلمان احساس ذمہ داری سے غافل ہوچکاہے۔کوویڈ اورلاک ڈاؤن کے دوران پیداہونے والے مایوس کن حالات میں تحریک اسلامی بیداری کا احساس پید اکرناچاہتی ہے۔ دنیا میں ظلم وستم کاخاتمہ چاہتی ہے۔ انسانوں کوکائنات کے مالک سے جوڑناوابستگان جماعت کافریضہ ہے۔ اس کے لئے امیرجماعت اسلامی ہند آج ہماری رہنمائی کے لئے ہمارے ساتھ آن لائن موجودہیں۔ اعلانات کے بعد رقت انگیز دعاپر وابستگان جماعت کرناٹک کا یہ اجتماع اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس پہلے آن لائن اجتماع کو فیس بک، اور زوم پر بھی ہزاروں ارکان وکارکنا ن اور وابستگان نے دیکھااوراپنے مقصد زندگی کو سنوارنے کا سامان کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!