اگنی پتھ منصوبے کی ضرورت نہیں: ویلفئر پارٹی آف انڈیا

0
Post Ad
بنگلور: مختصر مدت کے لئے فوجیوں کے تقررات کے لئے جو منصوبہ رائج کیا جارہاہے اسے مرکزی حکومت مسترد کرے۔یہ منصوبہ نجی کاری کے شعبے کو مضبوط کرنے کے طرف اٹھاگیاہے, اس سے نوجوانوں میں بے روزگاری بڑھے گی, اس بات کا اظہار ویلفئر پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہر حسین نے کیا ہے۔
انہوں نے اس سلسلے میں اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگنی پتھ میں ریزرویشن کے سلسلے میں کوئی بھی معلومات نہیں دی گئی ہیں, اگنی پتھ منصوبے کو جاری کرنے سے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔دفاعی محکمے کو نجی کاری کے نام پرزعفرانی کے لئے حکومت نے پہل کی ہے۔
دفاعی شعبوں میں 30 سالوں تک خدمات انجام دینے کے بعد سبکدوش ہونے والوں کو ہی روزگار نہیں دیا جارہاہے, فوج سے سبکدوش ہوکر آنے والے 16 ہزار فوجیوں کو سائنک ویلفئر ڈیپارٹمنٹ میں کسی بھی طرح کا کام نہیں دیا گیاہے, چار سال تک فوجی کے طور پر کام کرنے والے یس یس یل سی فوجیوں کو پی یو سی کے مساوات کی سرٹیفیکٹ دینے کی بات کہی جارہی ہے, یہ ٹھیک ہے لیکن اگنی ویر کا سرٹیفیکٹ دینے کی بات کہاں تک درست ہے?.
مزید انہوں نے کہاکہ نوجوان تشدد کا راستہ چھوڑ کرپرامن طریقے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کریں اور سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔
ملک بھرمیں جو احتجاجات چل رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے حکومت اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہے یہ قدم قابل مذمت ہے, حکومت اپنی ضد چھوڑ کر فوری طور پر احتجاجیوں کے مطالبات کوسن کر انہیں مطمئن کرے۔
*سیاست نہ کی جائے*
اڈوکیٹ طاہر حسین نے مزید کہا کہ اگنی پتھ کے نام پر زعفرانی ازم کیا جارہاہے, اس سے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچے گا, دفاعی محکمے کی نجی کاری نہ کیا جائے۔ ملک کی عوام کو گمراہ نہ کیا جائے۔
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!