الکل میں مردوخواتین کا قرآنی ورکشاپ گرائنائٹس کی سرز مین کو قرآنی تعلیمات سے مزین کرنے کا عز م کریں قرآنی تعلیمات کا صحیح فہم وشعور‘ انسانی مسائل کے حل کا زوردار مُحرک

0
Post Ad

شہر الکل ‘کرناٹکا کے باوقار ملی تعلیمی ادارہ انجمن اسلام انسٹی ٹیوٹ آف ٹریننگ فار قرآنک ایپلیکیشنز (اتقان)‘رائچور کے اشتراک سے قرآن مجید کےخصوصی کورس برائے تدبر وانطباق کا اہتمام کیا گیا۔انجمن ورکنگ کمیٹی کے توسط سے منعقدہ اس سہ روزہ فری سرٹیفکیشن کورس میں قرآنی آیات پر غور وفکرکرنے اور ان پر عمل کرنےکے سلسلہ میں منتخب آیات کی تفہیم کا اہتمام کیا گیا۔ انجمن اسلام کے فنکشن ہال میں منعقدہ مرد و خواتین کے الگ الگ ورکشاپس سے تقریباً150مرد و خواتین نے استفادہ کیا ۔ کشٹگی اور ہنم ساگر جیسے قریبی مقامات سے بھی چند افراد شریک رہے۔
13 تا 15 مئی 2024 کے دوران منعقدہ اس سہ روزہ قرآنی کورس میں مرد و خواتین کے علیحدہ سیشن منعقد کئے گے جن میں پاور پوائنٹ کے ذریعہ تفہیم کا نظم کیا گیا۔ہر دن تین گھنٹوں پرمشتمل ورکشاپ منعقد ہوا جس میں پہلے منتخب آیات کی تفہیم ‘سوال وجواب اور مختلف سرگرمیوں کا اہتمام ہوا اور آخر میں شرکاء کو قرآن مجید پرتدبر اور اس کی آیات کے انطباق کے لئے اسائنمنٹس تفویض کئے گئے۔
مردحضرات کے لئے قرآن مجیدپر غور وتدبر کی غرض سے سورہ آل عمران آیات ۱۹۰ تا ۱۹۴ ‘ سورہ ابراہیم آیات ۳۴ تا ۴۱ کا انتخاب کیا گیا اور قرآنی انطباق کے لئے سورہ التحریم کی آیت۸ کا مطالعہ کیا گیا۔ سورہ النحل اور سورہ الرعدکی منتخب آیات پر مشتمل اسائنمنٹس تفویض کئے گئے۔قرآن مجیدپر غور وتدبر کے لئے برائے خواتین سورہ الواقعہ آیات ۶۸ تا ۷۰‘سورہ عبس آیات ۲۴ تا ۳۲‘سورہ ابراہیم آیات ۳۴ تا ۴۱ کا انتخاب کیا گیا اور قرآنی انطباق کے لئے سورہ الاحزاب کی آیت ۳۵ کا مطالعہ کیا گیا۔ سورہ النحل اور سورہ الرعد کی منتخب آیات پر مشتمل اسائنمنٹس تفویض کئے گئے۔مرد وخواتین نے دلچسپی اور دلجمعی سے ورکشاپ کے دوران تبادلہ خیال میں حصہ لیا اور بڑی توجہ وانہماک سے مختلف سرگرمیاں انجام دیں ۔ اسائنمنٹس کی تکمیل کے بعد اظہار خیال کیا اور بعدازں شرکاء ہی کے درمیان سوالات وجوابات کا سلسلہ جاری رہا‘اور آخر میں ان کی رہنمائی کی گئی۔
قرآن مجید کی تفہیم کے سائنسی طریقہ کار‘زومنگ ٹیکنک‘آیت کے پس پردہ اسرارکو جاننے ‘سوالات وضع کرنے کے علاوہ باہم تبادلہ خیال کے طریقہ کو شرکاء نے کافی مفید محسوس کیا ۔اس دوران نہ صرف جدید ٹیکنالوجی اور موجودہ حالات کی روشنی میں قرآنی آیات کی تفہیم کا اہتمام کیا گیا بلکہ شرکاء کوتدبر وانطباق کے مراحل میں عملاً شامل کرایا گیا۔یہی اللہ کے کلام کی خوبصورتی ہے ۔یہ قرآن مجید اپنے پڑھنے والوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ آفاق وانفس کی سیر کراتے ہوئے انکے ضمیر بیدار کرتا ہے۔ اور صالح مزاج تشکیل دیتا ہے تاکہ وہ پوری دلجمعی اور یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں ۔
مرد وخواتین کے علیحدہ ورکشاپس‘ اتقان کے ڈائریکٹر محمد عبد اللہ جاوید صاحب کی زیر نگرانی منعقد ہوئے ۔آغاز ہی میں شرکاء کے سامنے قرآن مجید سےمتعلق بنیادی باتیں واضح کردی گئیں ۔جیسے یہ ساری کائنات ‘قرآن کا عملی نمونہ بنی ہوئی ہے۔یعنی قرآن میں آیات موجود ہیں اور باہر کی دنیا میں جو بھی نظر آتا ہے وہ سب اللہ کی آیات ہیں۔آسمانوں اور زمین میں بے شمار نشانیاں (آیات)پھیلی ہوئی ہیں۔یوں اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں قرآن مجید کے علاوہ اپنی کائنات اور خود انسان کے اندر پھیلا دی ہیں۔جن پر غور وفکر سے سوائے رب کے کسی اور سے تعلق پیدا ہی نہیں ہوتا۔قرآن مجید اس حقیقت کے بارے میں مختلف انداز سے کلام کرتا ہے۔ انسان کو اپنے اطراف واکناف کی تمام چیزوں کو قرآنی نگاہ سے دیکھنے کی ترغیب دلاتا ہے۔ یہی قرآن مجید پر غور وفکر کا مطلب ہے کہ انسان کا دہرا تعلق قائم رہے‘ ایک اللہ تعالیٰ کی اس کتاب سے اور دوسرا ‘باہر کی دنیا سے۔ جہاں تک قرآنی تعلیمات پر عمل کا تعلق ہے‘ اس سےمراد یہ کہ جیسے یہ ساری کائنات ‘ اللہ کے دین کے مطابق عمل کررہی ہے(دیکھئے سورہ النحل آیت ۵۲)‘ ویسے ہی انسان کو اپنے پیدا کرنے والے خالق و مالک کی بات مان ‘ کر اسکی مرضی کے مطابق زندگی گزارنی چاہئے‘جس کا تفصیلی ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔
پھر یہ بھی واضح کیا گیا کہ ہمارے اچھے ہونے کا معیار‘قرآن مجید ہے۔ ہم جہاں ہوں ‘جیسے ہوں‘جب قرآن مجید سے تعلق جوڑلیتے ہیں تو اچھے ہوجاتے ہیں۔ہم اچھے‘ ہمارا گھر اور خاندان اچھا اور ہمارا معاشرہ اچھا۔اللہ کے رسول ﷺ نے اچھے ہونے کا یہی معیار ارشاد فرمایا کہ ہم قرآن مجید سیکھنے اور سکھانے والے بنیں(بخاری شریف)۔ قرآن مجید ‘ہماری ہمہ جہت ترقی کا ذریعہ ہے۔اللہ کےرسولﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ لوگوں کو ترقی دیتا ہے اور اسی کے ذریعہ وہ زوال اور پستی سے دوچار ہوجاتے ہیں۔(بخاری شریف)۔قرآنی کورس کا مقصد یہ ہے کہ ہم قرآن سیکھنے ‘ سکھانے والے بنیں اور اس کتاب کے ذریعہ ‘اپنی‘ اپنے خاندان اور سماج کی ترقی یقینی بنائیں۔
کورس کے اختتام پرمرد وخواتین کا اختتامی و تاثراتی پروگرام صدر انجمن عثمان غنی صاحب ہمناآباد کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ مہمانان خصوصی کے طور انجمن کالج کے چیر مین محی الدین باشاہ صاحب ہنسگی‘ ناظم علاقہ محبوب عالم بڑگن صاحب ‘مولانان مفتی محمد عرفان صاحب‘ خطیب و امام محبوبیہ مسجد ‘حیدر علی صاحب ہلی‘ چیرمین انجام شادی محل ‘محمد عارف ہنی بندصاحب ‘چیرمین آئیڈیل کانونٹ اسکول اور محمد غوت گڑاد صاحب کوآرڈینٹرانجمن ورکنگ کمیٹی شریک رہے۔ آغاز سیمہ تاج صاحبہ ہمناآباد ‘صدرجی آئی او کی سورہ الحج کے آخری رکوع کی تلاوت و ترجمانی سے ہوا ۔
افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے محمد غوث صاحب گڑاد نے اس کورس کیلئے انجمن اسلام سے اشتراک کی تفصیل بیان کی اور اداروں کے مابین اشتراک و تعاون کی اہمیت وافادیت بیان کی۔ اس کورس کے مفید ہونے کے سلسلہ میں کہا کہ الکل کی تاریخ میں یہ پروگرام اپنی نوعیت کا انتہائی مفید اور منفرد رہا۔کہا کہ قرآن مجید سمجھنے کیلئے جن طریقوں کی اس کورس کے ذریعہ تعلیم دی گئی ہے‘انہیں اچھے طریقے سے سیکھنے کی اب کوشش کرنی چاہئے۔
اس کے بعد منتخب مرد و خواتین نے اپنے تاثرات پیش کئے جس میں انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس قرآنی کورس کے ذریعہ آیات پر کیسے غور وفکر کیا جاسکتا ہے‘معلوم ہوا ۔بعض نے کہا کہ مطالعہ قرآن کے بعد‘ دن بھر وہی آیات قلب و ذہن پر چھائی رہیں۔بعض خواتین نےکہا کہ قرآنی آیات پر مشتمل اسائنمنٹس کی تکمیل کیلئے کی گئی تیاری کی بنا رات میں نیند کم ہی آئی۔یہ تاثر بھی سامنے آیات پر غور وفکر کرنا ‘ان کےمطابق زندگی گزارنا آسان ہے‘بشرطیکہ پوری توجہ اور دلجمعی کے ساتھ اس کتاب ہدایت سے تعلق قائم رکھا جائے۔شرکا ء نے اپنے تاثرات کے ذریعہ قرآن مجید کی مستقل تلاوت کرنےاور اس پر باضابطہ غو ر وفکر کرنے کا اپنا منصوبہ بیان کیا۔ یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ قرآنی تربیت کے سلسلہ میں مستقل ربط و تعلق کا کوئی نظم ہونا چاہئے۔
حافظ فاروق عمری صاحب‘خطیب وامام مسجد ابراہیم نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سہ روزہ کورس بڑا منفرد رہا۔ آیات پر غوروفکر او ر عمل کے لئے غیر معمولی طریقہ اختیار کرتے ہوئے سمجھایا گیا۔جو ہماری ذہن سازی کرتا ہے کہ کتاب ہدایت سے رہنمائی کے لئے ہمیں تلاوت و ترجمانی سے آگے بڑھ کر تدبر وانطباق کی شعوری کوشش کرنی چاہئے۔
عبد الکریم بڑگن صاحب نے کہا یہ کورس ہمیں قرآن مجید سے جوڑ دیتا ہے۔اور ایسا گُر سکھاتا ہے کہ ہم دنیا و آخرت میں کا میابی حاصل کرسکتے ہیں۔کورس کےدوران ہوئے مطالعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اپنے بچوں کا اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوطی سے جوڑدیں گے تو ان کی ساری زندگی اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اور والدین کی فرمانبرداری میں گزرے گی۔
ہنم ساگر کے امیر مقامی جناب عبد الرزاق صاحب گیسودراز نے آیات کے حصے بناکر غور وفکر کرنے کے طریقے کو پسند کیا اور کہا کہ اس کے ذریعہ آیات کاصحیح فہم حاصل ہوتا ہے۔قرآن مجید میں جو باتیں بیان کی گئیں ہیں ان کا ہم عملی مشاہدہ پوری کائنات میں کرسکتے ہیں‘لیکن اس ضمن میں ہم نے توجہ نہیں دی۔اسی طرح قرآن مجید میں والدین اور رشتہ داروں کےحقوق بیان کئے گئے ہیں ‘لیکن اس ضمن میں بھی ہم نے توجہ نہیں دی۔اس کورس کے ذریعہ ہمیں یہ احساس ہوا کہ اس جانب بھرپور توجہ دینی چاہئے۔ان کے علاوہ حبیب صاحب تاورگیروی ‘عبد الحمید صاحب وینکٹاپور نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے۔
اس کے بعد مہمانان خصوصی کے خطابات رہے۔سب سے پہلے مولانا مفتی عرفان صاحب‘خطیب و امام مسجد محبوبیہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں فرمایا کہ سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جو قرآن مجید سیکھتے اور سکھاتے ہیں ۔علم سیکھنےکی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کورس کے توسط سے ہم تین دن جنت کے راستے پر گامزن تھے۔مولانا نے قرآن مجید کی افہام وتفہیم کے لئے اختیار کئے گئے جدید طریقے کو پسند کیا اور اس کو خوب سراہتے ہوئے کہا کہ یہی طریقہ ہر سطح پر جاری و ساری رہنا چاہئے۔
ناظم علاقہ محبوب عالم بڑگن صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ کا یہ اشعار سنائے:
ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن – گفتار میں، کردار میں، اللہ کی برُہان!
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن – قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قُرآن!
آپ نے قرآن مجید سے معنوی تعلق قائم کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی جانب توجہ مبذول کروائی۔مولانا مودودیؒ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں قرآن مجید لے کر معاشرہ پر چھا جانا چاہئے۔ اس کتاب کی تلاوت اور غوروفکر کے اہتمام کی اہمیت واضح کرتے ہوئے آپ نے اس ضمن میں برتی جانے والی بے احتیاطی اور غفلت کا بھی ذکر کیا۔
اس کے بعد محمد عبد اللہ جاوید صاحب نے کورس کے انعقاد پر اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کیا اور منتظمین اور شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اب آپ کی زندگی ‘قرآن کےسائے میں گزرنی چاہئے۔آپ نے کہا کہ قرآن مجید سے رہنمائی کے لئے اصل اہمیت دلی آمادگی اور پیش قدمی کی ہے۔جو خلوص دل کے ساتھ قرآن مجید سے رجوع کرتے ہیں‘اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے۔ ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگیاں ‘قرآنی تعلیمات کا عملی نمونہ بن جاتی ہیں۔وہ چلتا پھرتا قرآن نظر آتے ہیں ۔ان کی زندگیاں پرکشش اور پرونق بن جاتی ہیں۔ان کے جسموں میں قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ان کے غموں اور پریشانیوں کا اس سے علاج ہوجاتا ہے۔آپ نے شہر الکل کو قرآنی تعلیمات سے مزین کرنے پر توجہ دلائی اور کہا کہ قرآن سے ہدایت کے معنی یہ بھی ہیں کہ انسانی مسائل پر توجہ دی جائے کیونکہ قرآن مجید اپنی آیات کے ذریعہ ہمیں انسانوں اور انسانی مسائل سے جوڑ دیتا ہے۔جیسا کہ کورس کے دوران بتایا گیا سورہ الواقعہ کی آیات ۶۸ تا ۷۰ ‘پر غور وفکر‘ زیرزمین پانی کی سطح پر توجہ دینے کے لئے ہمیں آمادہ کرتیں ہیں۔آپ نے کہا کہ قرآن مجید سے تعلق معلوم کرنے کا ذریعہ بس یہ دیکھنا ہے کہ ہماری ذات ‘گھر ‘ خاندان اور معاشرہ میں قرآن مجید کے ذریعہ کیسی تبدیلی رونما ہورہی ہے؟
صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئےصدر انجمن عثمان غنی صاحب ہمناآباد نے اس کو رس کے انعقاد پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ہم سب جانتے ہیں لیکن جس انداز سے اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا ہے وہ بڑا غیر معمولی انداز ہے‘یہ ہمیں اب معلوم ہوا۔اس سے ہماری بہترین ذہن سازی ہوتی ہے۔قرآن مجید کی تعلیمات کے ذریعہ ہمیں یہ تک سکھایا گیا ہے کہ کس ترتیب کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو بیان کرنا چاہئے۔جیسے آسمان وزمین اور رات اور دن ۔ا س ترتیب میں تھوڑسی سی تبدیلی سے زبردست فرق واقع ہوجاتا ہے۔آپ نے پھر ایک بار الکل شہر میں قرآنی کورس کے انعقاد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی سال شروع ہوتے ہی یہاں کے کالجس میں قرآن مجید پر خصوصی لکچرز منعقد کرائے جائیں گے کیونکہ قرآن مجید سارے انسانوں کی کتاب ہے‘اور یہاں کے ہر باشندے کو جاننے اور سمجھنے کا حق حاصل ہے۔
آخر میں انجمن اسلام کے صدر اور دیگر ذمہ داروں کے ہاتھوں تمام شرکائے کورس میں اسناد تقسیم کئے گئے۔ اس اختتامی جلسہ کی نظامت کے فرائض حافظ فاروق عمری صاحب نے انجا م دئیے۔قرآنی کورس کے کامیاب انعقاد میں انجمن اسلام ‘الکل اور اس کی ورکنگ کمیٹی کا بڑا سرگرم تعاون رہا۔کورس سے متعلق خواتین سے رابطہ قائم رکھنے میں اسری فاطمہ صاحبہ اور عائشہ صدیقہ صاحبہ نے بحیثیت کوآرڈینیٹر اپنی خدمات انجام دیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر سے نوازے ۔اور اس قرآن مجید کو ہم سب کی ہدایت واصلاح کا ذریعہ بنائے۔آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!