مودی حکومت کے مزدور مخالف قوانین کے خلاف احتجاج منظم کرنے کی ضرورت۔ جو حکومتیں مزدوروں کے پسینہ کی قدر نہیں کرتیں وہ باقی نہیں رہتیں۔ مزدوروں کے حقوق اور ان کو انصاف کی فراہمی کے لئے ہماری جدوجہد جاری رہیگی۔ ٹی آر ایس قائد کلواکنٹلہ کویتا کا ورنگل میں خطاب

0
Post Ad

ہنمکنڈہ،31،مئی۔ جو حکومتیں مزدوروں کے پسینہ کی قدر نہیں کرتیں انہیں اقتدار میں رہنا کا کوئی حق نہیں ۔ مزدوروں کے حقوق اور ان کو انصاف کی فراہمی کے لئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ ٹی آر ایس حکومت مزدوروں کی فلاح کے لئے کئی ایک اقدامات کررہی ہے ۔ مزدوروں کے حقوق اور ان کی فلاح کے لئے قاضی پیٹ میں واقع سینٹ گیبرلس میدان میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے رکن قانون ساز کونسل کلواکنٹلہ کویتا نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جو حکومتیں مزدوروں کے پسینہ کے قطروں کی قدر نہیں کرتیں وہ باقی نہیں رہتیں ۔ انہوں نے کہا کہ غیر منظم شعبہ کے ملازمین کو مرکز کے نقطہ نظر سے پریشانی ہو رہی ہے اور مرکز نے ان ملازمین کے خلاف چارسیاہ قوانین لاگو کئے ہیں ۔ کویتا نے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے مزدور مخالف قوانین کے خلاف احتجاج منظم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر مزدوروں کے استحصال کونہ روکنے اور کارپوریٹ کمپنیوں کے پیادے کے طور پر کام کرنے پر بھی تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کوئلے کی کانوں ،ریل اور برقی جیسے تمام شعبوں کی نجی کاری کر رہی ہے ۔ اڈانی کو ہوائی اڈے بیچنے پربھی رکن کونسل نے تنقید کی ۔ دختر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ورنگل ٹیکسٹائل پارک کے سی آر کا خواب ہے اور ہم مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے سیاہ قوانین کے خلاف دہلی میں کسانوں کے جذبہ کی طرح احتجاج منظم کرنے کی اپیل کی۔ رکن کونسل نے یاد دلایا کہ مودی نے کہا تھا کہ سال میں دو کروڑ ملازمتیں فراہم کریں گے، لیکن تاحال نوجوان ملازمت سے محروم ہی ہیں ۔ کویتا نے کہا کہ مودی انتخابات سے قبل کچھ اور کہتے ہیں اور انتخابات کے بعد کچھ اور ۔ کویتا نے کہا کہ مودی صرف الیکشن موڈ اورائیرو پلین موڈ جانتے ہیں۔ اس موقع پر رکن کونسل کویتا نے مذکورہ پروگرام کا انعقاد عمل میں لانے پر رکن اسمبلی ونے بھاسکر کو مبارکباد پیش کی۔ چیف وہپ ونے بھاسکر کی سرپرستی میں قاضی پیٹ، سینٹ گیبریلس اسکول گراؤنڈ میں منعقد ہ جلسہ میں وزراء ایرابلی دیاکرراو، ستیہ وتی راٹھور، اراکین اسمبلی کے علاوہ مزدوروں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!