دس قسم کی قربانیاں تحقیق سے ملتی ہیں:حضرت مرزا چشتی صابری نظامی

0
Post Ad

بیدر۔ 4/جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری) حضرت مرزاچشتی صابری نظامی نے ماہ ذی الحجہ یعنی ماہ قربان کے پیش نظر قربانیوں کی بابت بیان کرتے ہوئے کہاکہ قربانی لفظ عام بھی ہے اور خاص بھی۔ عامیانہ امور میں یہ عام معنی میں استعمال ہوتاہے اور خاص امور میں خاص معنی دیتاہے۔ ہمیں اس لفظ کو اسی تناظر میں دیکھنااور برتناہوگا۔ حضرت مرزانظامی نے حضرت عبدُاللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے بتایاکہ شاہ صاحبؒ کی تحقیق کے مطابق قُربانیاں دس (10) ہیں۔ جس کااجمال یہ ہے۔ (۱) قُربانیء قُبول و سعادت:۔ جیسے ہابیل کی قربانی۔ ہابیل کی قربانی کو اللہ تعالی نے قبُول فرمایا جِس سے انکو سعادت حاصل ہُوئی۔(۲)قربانی ء ردّ و شِقاوت:۔جیسے قابیل کی قربانی۔ قابیل نے بھی قربانی دی تھی جسکو اللہ تعالی انکے شقی ہونے کی وجہ سے رد فرمایا،قبول نہیں کِیا۔(۳)قربانی ء قدر و منزلت:۔ حضرت عبدالمطلب (رضی اللہ تعالی عنہ) کی قربانی جو رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ سلّم کے والد حضرت عبدُاللہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کے لیے کی گئی۔اسکی تفصیل یہ ہے کہ حضرت عبدالمطلب نذر مانے تھے کہ مجھے اللہ تعالی اگر دس (10) لڑکے عنایت فرمائیں تو ان میں سے ایک لڑکے کو قربان کردوں گا، انکو اللہ تعالی نے دس لڑکے عنایت فرمایا۔ دسویں حضرت عبدُاللہ رضی اللہ تعالی عنہ (حضور ﷺ کے والد) تھے۔ انکو بچانے کے لیے سو100 اُونٹ ایک طرف اور حضرت عبداللہ (رضی اللہ تعالی) عنہ کا نامِ مبارک ایک طرف رکھ کر قرعہ ڈالا گیا تو 100اونٹ کی قربانی قرعہ میں نکلی، یہ قربانی حضرت عبداللہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کی قدر و منزلت کی وجہ سے دی گئی، اس لیے اسکو قربانیء قدر و منزلت کہتے ہیں۔(۴) قربانیء شفقت و عنایت:۔ یہ وہ قربانی ہے جو سرکارِ دو عالم حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم نے اپنی اُمّت کے لیے بکرا ذبح فرمائے اور ارشاد فرمایا الّھُمّ ھذا عن مُحمّدِِ و اُمّتِہ (اے اللہ یہ قربانی مُحمّدﷺ کی طرف سے اور انکی اُمّت کی طرف سے ہے) آپ ﷺ امت پر شفقت فرما کر قربانی دئے ہیں اس لیے اس قربانی کو قربانیء شفقت کہتے ہیں۔(۵)قربانیء فضیلت و منفعت:۔یہ حاجیوں کی قربانی ہے جو اخروی سعادت کی خاطر مِنی’ میں جانور ذبح کرکے دی جاتی ہے۔ اس قربانی کے دینے سے آخرت میں فضیلت اور اسکا لحم کھانے سے دنیا میں منفعت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اسکو قربانیء فضیلت اور منفعت کہتے ہیں۔(۶)قربانیء محبت و رحمت:۔عامتہ المسلمین کی قربانی جو عید الاضحی میں بہ متابعت سُنّت ابراھیمی دی جاتی ہے۔ در اصل اس قربانی میں حضرت ابراھیم علیہ السلام کی طرح اولاد کو ذبح کرنا چاہیے تھا مگر یہ اللہ تعالی کی رحمت اور بندوں سے محبت ہے کہ اُس نے جانوروں کو اولاد کا بدل قرار دے کر ایمانداروں کو آتشِ دوزخ سے بچا کر قربانی کو انکا فدیہ بنایا، اِس لیے اس قربانی کو قربانیء محبت و رحمت کہتے ہیں۔(۷)قربانیء قدرت و اظہارِ عظمت و سلطنت:۔یہ موت کی قربانی ہے یعنی میدانِ حشر میں دوزخیوں اور جنتیوں کے سامنے اللہ تعالی اپنی قدرت و عظمت و سلطنت کو ظاہر کرنے کے لیے موت کو مینڈھے کی شکل بناکر ذبح کرے گا۔ اُس وقت ایمان داروں کو خوشی اور بے ایمانوں کو حسرت و غم رہے گا۔ اس لیے کہ اس کے بعد کِسی کو موت نہیں آئے گی۔ صاحبِ ایمان ہمیشہ راحت میں اور بے ایمان ہمیشہ عذاب میں رہینگے۔چونکہ اس سے باریء تعالی کی عظمت و قدرت ظاہر ہوگی اس لیے اسکو قربانیء قدرت و عظمت کہتے ہیں۔(۸)قربانیء کرامت:۔جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کہ امتحان کے بعد باپ اور بیٹے کو کرامت و اعزاز سے سرفراز کیا گیا(تشریح، اسکی یہ ہے کہ باریء تعالی کے حکم پر ابراھیم علیہ السلام اپنے لختِ جگر اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنا چاہا۔ باریء تعالی نے اسماعیل علیہ السلام کو بچالیا اور انکے بدلے جنت کا دنبہ بھیج کر قربانی کرادیا چونکہ اس میں حضرت ابراھیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی عزت و کرامت و بزرگی کا اظہار ہے اس لیے اس قربانی کو قربانیء کرامت کہتے ہیں۔(۹)قربانیء نفسِ اماّرہ:۔ نفسِ امّارہ کو قابُو میں لانے کے لیے اوامر و نواہی کی چُھری سے (نفسِ امّارہ) کی قربانی کی جاتی ہے۔ یہ نفسِ امارہ کی قربانی کہلاتی ہے۔(۰۱) قربانیء اہلِ عشق و مُحبّت:۔یہ شہیدوں کی قربانی ہے جو باریء تعالی کی راہ میں شہید ہوے ہیں، اس قربانی میں ایسی لذّت پاتے اور معشوقِ حقیقی کے مشاہدہ میں ایسے غرق ہوجاتے ہیں کہ کچھ تکلیف محسوس ہی نہیں ہوتی۔ جیسے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ، سیدنا امام حسن و سیدنا امام حسین علیہ السلام راہِ خدا میں خود اپنے کو قربان کردئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!