سال2022؁ء کے 164ویں دن (یعنی دوشنبہ /پیر) کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔ کرناٹک۔موبائل:9141815923

0
Post Ad

۱۔ ناشکرا
میری آزادانہ اور خود مختارانہ صحافتی خدمات 10سے زائد اخبارات کے لئے ہے۔اس کی سیاسی خدمت کیاکچھ ہیں، پتہ نہیں تھالیکن مختلف تقریبات میں وہ نظر آجاتاہے۔ میری مصروفیات پر اس کی نظر تھی۔ اس کی مصروفیات میرے لئے اہم نہیں تھیں حالانکہ میراپیشہ اس کامتقاضی تھالیکن اس کامزاج میرے پیشے میں حائل تھا۔
پھر وہ الیکشن میں کھڑا ہوگیا۔ میرے لئے یہ ایک خبر تھی۔ جو میں نے لکھ کر سبھی اخبارات کواشاعت کے لئے بھیج دی۔ لیکن وہ الیکشن ہارگیا۔ میں نے خبر ہی نہیں لکھی۔ جس سے وہ ناراض تھا۔ اس کاکہناتھاکہ ہارنے کی خبر بھی سیاست دانوں کے ہاں اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن یہ باتیں اس نے میرے سامنے نہیں کہیں۔پھروہ مختلف خبریں مجھے بھیجتارہا۔ میں نے ان خبروں کوکبھی قابل اعتنانہیں سمجھا کیونکہ یہ تمام خبریں اس کے لڑکوں، لڑکیوں،یاپھررشتہ داروں کی مادی ترقی یاپھر تعلیمی اوتارسے متعلق ہواکرتی تھیں۔
ایک دن اس نے خلوص سے فون کیا۔ اپنی تقریر سے متعلق بات کی۔ اس پروگرام میں میں بھی شریک تھا۔ اس تقریر کے جوPoint مجھے اچھے لگے میں نے ان کی تعریف کردی۔ فون رکھ کر میں نے سوچا، پروگرام کی خبر میں اس کی بات بھی شامل رکھنا چاہیے۔ میں نے اس کی تقریر کاکچھ حصہ خبر میں شامل کردیا۔خبرشائع ہوگئی،تمام اخبارات کے تراشے میں نے اس کو واٹس ایپ کردئے۔
دوسرے دن اس نے ایک دوسری خبر بھیج دی جو سبھی کے انٹرسٹ کی چیز تھی۔البتہ اس خبر کی اشاعت سے وہی نمایاں ہوسکتاتھا۔ کل کی خبر میں وہ کہیں چھپا ہواتھا۔پوری خبر پڑھنے پر ہی اس کاپتہ ملتا لیکن یہ خبر خالص اس کو نمایاں کرتی تھی۔ میں نے یہ خبر ممدوح سیاست دان کی تصویر کے ساتھ روانہ کردی۔ 7سے زائد اخبارات نے اس خبر کو جگہ دی۔ پانچ اخبارات نے اس کی تصویرکیساتھ خبر شاملِ اشاعت کی تھی۔
یہ خبر تین دن کے درمیان اخبارات میں شائع ہوئی۔ تمام خبریں واٹس ایپ کرنے کے بعدمیں اس ناکام انتخابی سیاست دان کے شکریہ کامنتظر رہا۔ جیسے ہی خبربھیجی جاتی ہے لوگ باگ میرا شکریہ اداکرتے ہیں لیکن اس نے آج تک شکریہ ادانہیں کیا۔
ویسے بھی آجکل بیشتر لوگ اللہ رب العزت کے احسانات کا شکرادانہیں کرتے پھر میرااس سے شکریہ کی ادائیگی کاگمان رکھنا شاید غیرضروری ہی تھا۔

۲۔ بے وقوف آدمی
”آپ بے وقوف آدمی ہیں“سرلا ماتھر نے یہ بات کہی۔ وہ میری ہیڈ تھیں۔ میں نے کہا”جی میم“کئی ایک باتیں اس نے کہیں۔ پھربولیں ”آپ کو لوگوں کی پہچان نہیں ہے“
میں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا”سچ کہہ رہی ہیں میم، دراصل میں خود کو پہچاننے نکلاتھا۔ مجھ سے غلطی سرزدہوگئی‘لیکن مجھے یقین ہے کہ میں خود کو پہچان لوں گاتو افراد اور اداروں کی بھی پہچان ممکن ہوسکے گی“سرلاماتھر نے مجھے گھور کر دیکھا۔ پھرمایوسی سے سرہلاتے ہوئے چلی گئیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!