سال 2022؁ء کے 172ویں دن یعنی منگل کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔ کرناٹک۔ موبائل:9141815923

0
Post Ad

۱۔ ہم سے ہے
”میرے افسانچے لکھنے پر کہتے ہوکہ تمہارے افسانچوں سے کیاہوگا؟ اگریہی بات دوسروں کے بارے میں سوچاکرو مثلاًسماجی کارکن کے بارے میں کہوکہ اس کی خدما ت سے کیاہوگا؟سیاست دان کے بارے میں کہوکہ دن رات اس کے دوروں اور بیانات سے کیاہوگا؟ تعلیمی اداروں کے مالکان کے بارے میں سوچ لو یاکہو کہ اِن اداروں کے قیام سے کیاہوگا؟احتجاج کرنے والی تنظیموں کے بارے میں کہوکہ ان کے احتجاج کرنے سے کیاہوگا؟صحافی سے متعلق کہنے لگ جاؤکہ اس کے لکھنے لکھانے یا چینل پر خبریں پیش کرنے سے کیاہوگا؟تاجرپیشہ افراد کے بارے میں بھی کہنے لگوکہ ان کے کاروبار کرتے رہنے سے کیاہوگا، آیاملک ترقی کرے گا، توواقعتا پھر کچھ ہوگاہی نہیں، سوچناپڑے گاکہ ملک میں واقعی کچھ نہیں ہورہاہے“
”تم آخر کہناکیاچاہتے ہو؟“ مجھے غصہ آگیاتھا۔ افسانچہ نگار نے سنبھلے ہوئے لہجہ میں کہا”میں تمہارے سوال کاجواب دینے کی کوشش کررہاہوں، تمہاراسوال مایوسی کی گہرائیوں سے نکلا ہواتھاکہ ہمارے کچھ کرنے سے کیاہوگا؟اتنے سارے افسانچے لکھنے سے کیاہوگا؟ اس کاسیدھا جواب یہ ہے کہ ہمارے ہی کچھ کرنے اورہمیشہ کرتے رہنے سے ہی ’سب کچھ‘ہوگا۔ میں لکھوں گاتب ہی بات بنے گی جناب،کیونکہ میں افسانچہ نگار ہوں“
میں خاموش ہوگیا۔ واقعی ہمارے ہی کچھ کرتے رہنے سے کاروبارِ زندگی چل رہاہے۔ کبھی کبھی سامنے کی باتیں بھی سمجھ میں نہیں آتی ہیں۔ بہت زیادہ بقراط بننے کی کوشش میں دماغ جیسے الٹ سا جاتاہے۔ میں نے افسانچہ نگار کے کندھے پرہاتھ رکھ کر کہا”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، تم کافی سمجھدار افسانچہ نگار ہو۔ کبھی کچھ کام ہوتو مجھ سے مل لینا“اور پھر میں آگے بڑھ آیا۔ اس سے ہاتھ چھڑا نا بھی تو ضروری تھا۔
۲۔ گاؤدی
میں نے واٹس ایپ پر نظر ڈالی، واٹس ایپ کے تمام گروپوں پر کوئی نئی پوسٹ نہیں تھی۔ شاید لو گ سورہے تھے۔ مجھے تعجب ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ ابھی تو رات کے گیارہ ہی بجے تھے اور پورا واٹس ایپ سنسان تھا۔
صبح جب پانچ بجے بیدار ہواتو دیکھاکہ واٹس ایپ پر اخبارات دھیرے دھیرے پوسٹ کئے جا رہے ہیں لیکن کوئی انفرادی پوسٹ نہیں ہے۔جم میں ورزش کے بعد گھرآکر نہالینامعمول میں داخل ہے۔ میرے نہانے تک امی نے کھاناتیار کردیاتھا۔اہلیہ میکہ گئی ہوئی تھیں۔ عرصہ بعد امی کے ہاتھ کا کھانا کھارہاتھا۔بڑا لذیذ کھاناتھا۔ ماضی کی خوشگوار یادیں امی کے ہاتھ سے تیار کردہ کھانے سے وابستہ ہیں۔ کھاناختم کرکے پھر ایک بار واٹس ایپ پر نظر ڈالی تو ابھی بھی کچھ نظر نہیں آیا۔
دفتر آکر میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مشغول ہوگیا۔ میراپڑوسی ساتھی ابھی تک دفتر نہیں پہنچاتھا۔ ایک گھنٹہ کی تاخیرسے دفتر پہنچاتو باس نے اپنے چیمبر میں بلالیا۔ جب وہ چیمبر سے واپس آیاتو اس کا موڈ خراب تھا اور چہرے پر ابھی بھی نیند کے آثارتھے۔باس نے غصہ کیاہوگا۔ قریب ایک گھنٹہ بعد میں نے پوچھا۔ ”کیابات ہے آج تاخیرسے آئے ہو“ اس نے اپنالہجہ خوشگوار بناتے ہوئے کہا”ہاں یار!رات دیر تک سوشیل میڈیا پر تھا، اسلئے کچھ زیادہ ہی تاخیر ہوگئی“ مجھے تعجب ہوا۔ میں نے کہا”یارسچ سچ کہاکرو، میں نے رات کئی دفعہ تمہیں واٹس ایپ کے مختلف گروپس میں تلاش کیا لیکن تمہاری کوئی ایکٹوٹی نظر نہیں آئی“
ساتھی نے ہنستے ہوئے کہا”کون سی دنیا میں رہتے ہو، اب کوئی واٹس ایپ گروپ پر بہت زیادہ سرگرم نہیں رہتا۔ یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹوئٹر اور دیگر پلیٹ فارم پر لوگ رات بھر مشغول رہتے ہیں“میں اسے حیرت سے دیکھ رہاتھا۔ اس نے چٹکی لیتے ہوئے کہا”واٹس ایپ پرصرف گاؤں کے گاؤدی ہوتے ہیں، جس کسی کو تیز رفتار ترقی دیکھنی ہے وہ ٹوئیٹر ہینڈل اور یوٹیوب کی شاہراہوں پر نظرآجاتاہے“
وہ اور بھی جانے کیاکچھ کہہ رہاتھا لیکن میرے کانوں میں صرف ایک ہی جملہ گونج رہاتھا۔ ”واٹس ایپ پر گاؤں کے گاؤدی ہوتے ہیں“
۳۔ شکست خوردہ
”اپنے ہی آباواجداد کاتعمیرکردہ قلعہ تھا، اوراس کے ایک حصہ میں یوگا کیاگیا“توصیف احمد خان نے گویا اطلاع دی۔
”تو؟“ افسرنواب کا سوال عجیب تھا۔ توصیف احمد خان جانے کون سی دنیا میں تھے، وہ کہے جارہے تھے”زیادہ تر اپنے ہی طلبہ نے اس میں حصہ لیااور اپن ہی بدنام بھی ہیں کہ کوئی یوگاکے لئے نہیں آتا۔ یہ سب اسلئے ہوتاہے کہ شہ نشین پر ہماری حاضری گویا منع ہے۔ جاؤگے بھی توشہ نشین کے نیچے رہناپڑے گا، ہمارے معززین نیچے رہنے کو شکست تصور کرتے ہیں، نیچا رہنا سیکھا ہی نہیں نا“
افسرنواب کو توصیف احمد خان کا جواب سمجھ میں ہی نہ آسکا۔ وہ سوچ رہے تھے کہ خان صاحب کو کچھ تکلیف پہنچی ہے جس کا اظہار وہ خود کلامی سے دے رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!