سال 2022؁ء کے 174ویں دن یعنی جمعرات کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔ کرناٹک۔موبائل:9141815923

0
Post Ad

۱۔ مخلوعہ نشست
اس نے لجاجت سے کہا”کہامان جاؤ، سب کے ساتھ چلناہوگا“استاد ولی شاہ نے کہا”یزید یت ہر گز نہیں چلے گی، اور نہ اس گمان میں رہناکہ ہم یزید کا ساتھ دیں گے“پھر تو جیسے سب کچھ ختم ہوگیا۔
وہ جگہ خالی رہی۔سناہے وہ جگہ آج بھی خالی ہے۔

۲۔ منتظرسایہ
وہ فون کاآج بھی منتظرہے۔ اس کی ایک ہی ضد رہی کہ اس کو فون کیاجائے لیکن اس کی ضدکو پورا نہیں کیاگیا۔ آج دودہائیوں بعد وہ ممبئی کے بڑے کاروباریوں میں شامل ہوچکاہے۔ کافی بڑے دل کامالک ہے لیکن فون کے تعلق سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ آج بھی اڑا ہواہے۔ اس کو جب اپنا ماضی یاد آتاہے تو پھر وہ وہیں کھڑا ہوجاتاہے جہاں فون لگاہوا ہے۔ اورکسی اہم فون کابے چینی سے منتظر رہتاہے۔

۳۔ بھکت
میں نے تسلی دیتے ہوئے کہا”دیواروں کو رنگ وروغن بھی ہوجائے گا“
وہ اچانک ہی چڑ گیا اور بولا ”آخر کب ہوگا؟“
میں اس کی بات سمجھ رہاتھا۔ نہایت ہی حلیم بن کر بولا”جب ہولی ہوگی تویہ تاریخی دیواریں بھی رنگ دی جائیں گی۔ اس دفعہ کی ہولی، تم سمجھتے ہوکہ کس رنگ کی ہوگی“
وہ چیختے ہوئے بولا”ہاں!ہاں! میں اسی کے بارے میں پوچھ رہاہوں“
میں نے کہا”چیخانہ کرو، بہادر بنو، ابھی سے گھبرانے لگے ہوکیا؟“ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا”ہنومان کابھکت ہوں، چیرکررکھ دیتاہوں“ میں نے بھی شہ دیتے ہوئے کہا”دیکھاجائے گاکہ کیانتیجہ نکلتا ہے“وہ پھر چیختے ہوئے بولا”ابھی سے تیار ہوں“
رات ہولی جلائی گئی لیکن صبح کو اس سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ مسلسل کال کی جاتی رہی۔ شام کو وہ نشہ کی حالت میں موبائل پر کہہ رہاتھا۔ ”معاف کرنا، کبھی کبھی وعدہ نہ نبھانے پر خوشی ہوتی ہے۔ آج میں بہت خوش ہوں“ میں نے غصہ میں موبائل کاٹ دِیا۔یہ نہیں پوچھاکہ تو خوش کیوں ہے؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!