سال 2022؁ء کے 176ویں دن ہفتہ کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔ کرناٹک۔ موبائل:9141815923

0
Post Ad

۱۔ مقام ِ انصاف
”عدالت دیکھی ہے؟“ اس نے پوچھا۔ میں نے جواب میں کہا”ہاں دیکھی ہے“ راہل ایڈوکیٹ نے دوبارہ پوچھا”وہاں کیادیکھا؟“ میراجواب تھا”عدالت وہ جگہ ہے جہاں آنے والا
ملزم اپنے اپنے بھگوان،اللہ، اور عیسوع کودل سے پکارتا ہواملتاہے، جو کام اس کو سماج میں رہ کر کرناہے وہ کام عدالت کی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد وہ انجام دیتاہے“راہل ایڈوکیٹ میری طرف گھورگھور کردیکھنے لگے۔ کہاکچھ نہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آیاکہ اس کومیری بات کا براکیوں لگا؟

۲۔ہم دونوں
وہ فرقہ پرست ہے، کٹر فرقہ پرست، پیسے اور غلط انفارمیشن دے دے کر کچھ بھی خرید لیتاہے، قانون بنانے والوں کوبھی جبکہ میں ایک سیکولرسٹ ہوں۔ سیکولرازم پر یقین رکھتاہوں۔ موقع پرست میں بھی ہوں لیکن اس جیسا نہیں۔
دراصل ہم دونوں کی یہ اپنی اپنی دوکانیں ہیں۔ کبھی اُس فرقہ پرست کی دوکان چلنے لگتی ہے تو کبھی میری دوکان چمک اٹھتی ہے۔ اس طرح ہم دونوں خوش ہیں۔
بہرحال پوچھنا یہ تھاکہ آپ کس کے ساتھ ہیں؟

۳۔ باوفا آنکھیں
اب اس کو مجھ میں دلچسپی نہیں رہ گئی اور نہ ہی میرے طبقہ کے لوگوں سے اس نے اپنا تعلق ہی باقی رکھاہے۔ نمسکار،سلام دعا کے لئے اس کے ہاتھ نہیں اٹھتے حالانکہ آنکھیں شناسائی کا پتہ دیتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!