سال 2022؁ء کے 178ویں یوم یعنی پیر کے افسانچے

محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر۔ کرناٹک۔ موبائل:9141815923

0
Post Ad

۱۔بیوہ کرسیاں
فنکشن ہال کے طویل وعریض فنکشن ہال میں پروگرام چل رہاتھا۔ دیوار سے لگاکر ہرقطار میں رکھی ہوئی ایک ایک کرسی اس طرح جملہ 21کرسیاں ناکارہ ہوکر رہ گئی تھیں۔کیونکہ سبھی دیوار سے ہٹ کر کرسی پر بیٹھ جاتے تھے اور بعد میں آنے والوں کو راستہ نہیں دیتے تھے۔
جب ان کرسیوں پرکوئی نہ بیٹھ سکاتو کرسیاں کسی بیوہ کی طرح تڑپ کر رہ گئیں۔

۲۔ کیاگذری؟
وہ اچانک نظر آگیا۔ اس کا چہرہ ہوبہو ویساہی تھا۔ میں نے ہجوم سے اس تک پہنچنے کی کوشش کی۔ میں اسکو قریب سے دیکھنا چاہتاتھا۔ اس قدر مماثلت ممکن نہیں تھی۔ میں اس کے قریب پہنچتا، اس وقت تک وہ کہیں غائب ہوگیا۔
دوبارہ، سہ بارہ پھر بار بار اس کادیدار ہوتارہا۔ میرے پہنچنے تک وہ غائب ہوجاتا۔ آج اتوار کو اس سے ملاقات ہوگئی۔ میں اس کے بازو بیٹھارہالیکن ہمت نہ ہوئی کہ اس سے بات کرسکوں۔ کسی مرے ہوئے فرد سے کوئی کیسے بات کرسکتاہے؟ اس کاتجربہ مجھے نہیں تھا۔ لیکن وہ وہی تھا۔ جو مجھے اکثر نظر آتاتھا۔
اب جبکہ میں گھرآچکاہوں تو احساس ہورہاہے کہ مجھے اس سے بات کرناچاہیے تھا۔ پوچھنا یہی تھاکہ مرنے کے بعد کیاگذری؟ اب پچھتاواکیاہووت؟ایک امید یہ بھی ہے کہ وہ پھر کہیں نہ کہیں مل جائے گا۔

۳۔طورِ خطابت
مولانا بولتے ہی جارہے تھے۔ کچھ ان کی تقریر سن رہے تھے اور کچھ سورہے تھے۔ پھر وہ لوگ سوگئے۔پروگرام کے بعد ملاقات ہوئی تو میں نے ان کے سونے کاسبب دریافت کیا۔ وہ بولے کہ مولانا کچھ اس انداز سے سمجھارہے تھے جیسے بچوں کو سمجھایاجاتاہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ہم بچے نہیں ہیں۔
یہ پرانی بات ہے، آج 10سال بعد مجھے ان لوگوں کی کہی ہوئی بات پر اعتماد ہوچکاہے کہ واقعی وہ بچے نہیں ہیں۔البتہ مولانا کے سمجھانے کاگراف مزید نیچے آیاہے اسلئے کہ وہ ایک عربی مدرسہ میں تحتانیہ کے لڑکوں کو پڑھانے میں مشغول ہیں۔ خطابت چھوڑے ہوئے انہیں عرصہ گذرا۔ زندگی گذارنے کے لئے معلم بنناضروری تھا۔ خطابت سے کوئی آمدنی مولانا کو نہیں تھی۔ اس کے باوجود کبھی کبھی مولانا خطابت کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ تو بہت ساروں کو اونگھ اور نیند کا آناضروری ہوجاتاہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!