کتابیں خرید کر پڑھنے کا دور کب آئے گا

0
یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ ایک شاعر و ادیب کتاب لکھے اور فری تقسیم بھی کرے اس پر لینے والوں کو اور مانگنے والوں کو ذرہ برابر بھی شرم نہیں آتی تجب کی بات ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ جب کبھی کسی کتاب کی اجرا ہوتی ہے تو سب سے پہلے اردو کا شاعر ادیب اور اردو کا صحافی اور اردو سے  جوڑے تنظیموں کے ذمہ دار پہلے کتاب خریدیں  شاید ہمارے اس عمل سے اردو کا قاری  اور ادب کا شیدائی بھی ہماری اس کوشش میں شامل ہو جائے جہاں تک کتابوں پر تبصرہ کرنا اور کتابوں پر اپنی رائے دینا وہ عمل دل سے ہونا چاہیے نہ کہ سفارش اور زبردستی سے
اس میں غلطیاں قلم کاروں کی بھی ہے نام نمود لوگوں کے پیچھے  اپنا وقت ضائع کرتے ہیں نام کے آگے ڈاکٹر رہنے سے کوئی مجاہد اردو یا پھر قوم و ملت و  اردو زبان کا سچاہمدرد نہیں ہو سکتا
ویسے یہ بات بھی بہت حد تک درست ہے کہ اردو ادب میں خواتین کو وہ مرتبہ ومقام اور وہ معاوضہ نہیں ملتا جو مرد حضرات کو دیا جاتا ہے
خاتون فلم کاروں کی کتابوں کی اور ان کے کلام کی اتنی پذیرائی نہیں ہوتی جتنی ہونی چاہیے خواتین اپنی ذمہ داریاں اور گھر گرستی کو دیکھتے ہوئے اپنے ذوق و شوق کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں اور کئ خاتون قلمکار تو اپنی گھریلو مصروفیات کی وجہ سے لکھنا پڑھنا ترک کردیتی ہیں یہ خاتون قلمکار کی سب سے بڑی قربانی ہے اور چند  خواتین جو لکھ پڑھ رہی ہیں چھپ رہی ہیں  انہیں وہ مقام نہیں مل رہا ہے جو ملنا چاہیے  اس کے علاوہ خاتون قلمکاروں پر مضامین یا پھر ان کی کتابوں پر تبصرہ بھی بہت کم  لکھے جاتے ہیں معروف  فلم کارہ مہر افروز نے کہا کہ وہ اپنی نئی کتاب کو 100 سے زائد لوگوں کو  بھیجا جن میں سے صرف دو لوگوں نے تبصرہ کیا اور دو احباب نے فون پر مبارک باد دی  آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ ایک شاعر اور ادیب کتنے بے حس ہو گیے ہیں  ادب کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ لوگوں کو دہلی یوپی بہار کے  لوگوں سے مضامین لکھوانے خاکہ لکھنے اور اپنی کتاب پر تبصرہ اور پیش لفظ لکھنے کے لیے ان کے آگے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں کتنے تعجب کی بات ہے کہ ایک آدمی جو آپ کو اور آپ کی شخصیت کو جانتا تک نہیں صرف سفارش پر  اور چند پیسوں پر آپ کی کتاب کا پیش لفظ اور آپ کی کتاب پر تبصرہ کر دیتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ مقامی شعراء ادباء اور نقاد تبصرہ نگار خاکہ نگار  ہماری شخصیت ہمارے کارنامے  ہمارے کلام سے بخوبی اور اچھی طرح واقف ہوتا ہے تو اس سے زیادہ بہتر اور اچھا کوئی اور لکھیں نہیں سکتا مگر یہ عمل اس لیے پیچھے ہے کہ ہم  گروپ بندی میں بٹے ہوئے ہیں  ہم کسی کوخود سے بہتر ماننے کے لئے تیار نہیں ہے
کوئی شاعر  وہ ادیب چھوٹا بڑا نہیں ہوسکتا  ہاں سوچ اونچی اور گھٹیا ہو سکتی ہے  میری شعرا وہ دبا سے گزارش ہے کہ وہ اپنی کتابوں پر تبصرے اور اپنی شخصیت پر مضامین اور خاکہ  مقامی  قلمکاروں کو لکھنے کا موقع دیں  اس سے ہوگا یہ کہ وہ آپ کو اور آپ کے کلام کو آپ کے کام کو اچھی طرح جانتا ہے تو ممکن ہے آپ کی شخصیت کے  آپ کے فن کےساتھ پورا پورا انصاف کرے گا ایک دوسرے سے خلوص محبت بھی برقرار رہے گی  ایک دوسرے کے لئے جب دل سے لکھیں گے تو دل سے خلش اور دوریاں بھی ختم ہو جائے گی  اور سینئر شعراادبا کو چاہیے کہ نئے لکھنے والے اور  نوجوانوں کی ہمت افزائی کریں ان کو مشاعروں میں جوانوں کو زیادہ سے زیادہ شرکت کا موقع دیں ادبی ماحول کو پروان چڑھایں نئی نسل کو اردو زبان و ادب سے  واقف  کروائیں اگر ہم سب ایسا کرتے ہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!