حکومتی کام کاج سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بغیر نہیں ہورہاہے:سابق وزیر یوٹی قادر

0

بیدر۔ 11جون (محمدیوسف رحیم بیدری) کوویڈ19پرقابوپانے کے لئے دی جارہی ویکسین سے متعلق کوئی پالیسی مرکزی حکومت کے پاس نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی نے شروع ہی سے پالیسی بنانے کامطالبہ کیاتھا لیکن اس پر مرکزی حکومت نے کان نہیں دھرا۔ ویکسین دینے سے متعلق پالیسی نہ ہونے پر سپریم کورٹ نے پھٹکار لگاتے ہوئے پالیسی بنانے کی مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے۔ اتناہی نہیں مرکزی حکومت کوئی کام اس وقت تک صحیح ڈھنگ سے نہیں کررہی ہے جب تک کہ سپریم کورٹ پھٹکار نہیں لگارہی ہے۔یہ الزامات سابق وزیر اوررکن اسمبلی یوٹی قادر نے لگائے۔ وہ آج کانگریس پارٹی کے ضلع دفتر بیدر میں اپنی جانب سے طلب کردہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے کرناٹک کی بی جے پی حکومت کے مزراعی محکمہ میں پیش آئے واقعات پر تجویز پیش کی کہ ریاستی حکومت کو چاہیے کہ وہ مزراعی محکمہ کا اڈمنسٹریشن علیحدہ کردیں تاکہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے معاملات علیحدہ علیحدہ نمٹائے جاسکیں۔ یاپھر بجٹ کو علیحدہ کرتے ہوئے کوویڈ19میں دی جارہی مالی مدد مینارٹی وزارت یاوقف بورڈکے توسط سے مؤذن اوراماموں کوپہنچائیں.انھوں نے یہ بھی کہاکہ اصولی طورپرمذہبی مقامات پر لگائے جانے والے چندے کے صندوق سے نکلنے والا 90فیصد پیسہ اسی مقام کے لئے خرچ کرناہوتاہے۔ صرف 10فیصد پیسہ حاصل کرنے کی حکومت مجازہوتی ہے۔ لیکن بی جے پی حکومت ایسا نہیں کررہی ہے۔ جناب یوٹی قادر نے ویکسین پر بولتے ہوئے کہاکہ امریکہ اوربرازیل میں دودوکروڑ افرادکو دوڈوز دئے جاچکے ہیں۔ اور تیسرے ڈوز کاکام چل رہاہے لیکن ہمارے پاس سنگل ڈوز بھی پورا نہیں ہوسکا۔ ہمارے ملک کی آبادی 130کروڑ ہے جس میں سے 30کروڑ بچو ں کواگر منہاکردیاجائے تو 100کروڑ افراد کو ویکسین لگانے کے لئے 200کروڑ ویکسین چاہیے۔ یہ ویکسین کب تک لگیں گے؟ہمارے ملک بھارت میں 22کمپنیاں ویکیسن تیار کرسکتی ہیں لیکن حکومت نے ان تمام کمپنیوں کو اجازت نہ دیتے ہوئے صرف 2ملکی اور ایک غیرملکی کمپنی کو ویکسین تیار کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ سابق وزیر نے کہاکہ دوسری لہر آنے سے قبل ملنے والے وقفہ کے دوران حکومت تیاری کرلیتی تو اتنی جانیں نہ جاتی تھیں۔ اگر ہم تیار رہتے تو اتنے سارے جانی نقصان سے بچاجاسکتاتھا۔ دوسری بات یہ کہ اب جو کیسس کم ہوئے ہیں،وہ دراصل عوام کے گھروں میں بیٹھے رہنے سے کیسز کم ہوئے ہیں کیونکہ ٹسٹ بھی کم ہورہے ہیں اور کیس بھی کم آرہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے کھل جانے کے بعد جب لوگ ایک دوسرے کے قریب آئیں گے تو کیسز بڑھنے کے زائد مواقع ہوں گے۔ انھوں نے استفسار کیاکہ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کے ذریعہ کاروبار بندکردیاگیا ہے لیکن فلپ کارٹ اور، ایمزون دوکمپنیوں کاکاروبار چل رہاہے۔ ان کمپنیوں کو اجازت دینے کی وجہ کیاہے۔ مرکزی حکومت کی ان کمپنیوں کے ساتھ کیا سانٹھ گانٹھ ہے؟اس کاجواب حکومت کو دیناہوگا۔ جناب یو ٹی قادر رکن اسمبلی نے مہنگائی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں یوپی اے حکومت نے اضافہ کیا تھاکیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کچے تیل کی قیمت اس وقت زیادہ تھی۔ اس پربی جے پی والوں نے ملک گیر دھرنا دیتے ہوئے احتجاج منظم کیاتھا۔ اب وہی بی جے پی والے ہیں جو بین الاقوامی مارکیٹ میں کچے تیل کی قیمت کم ہونے کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمت آسمان تک پہنچارکھاہے اوراس مہنگائی کے بی جے پی والے طرفدار ہیں۔اس مہنگائی اور تیل کی قیمتو ں میں اضافہ کی ہم مذمت کرتے ہیں۔پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتیں کم ہونے تک احتجاج کرتے رہیں گے۔سچ تو یہ ہے کہ مرکزی حکومت ٹیکس کی صورت میں عوام کولوٹ رہی ہے۔ ملکی تاریخ کی یہ سچائی تاریخ میں ضرور لکھی جائے گی۔ پریس کانفرنس میں ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر بسواراج جابشٹی، رکن اسمبلی رحیم خان،پارٹی ترجمان میناکشی سنگرام وغیرہ شہ نشین پر تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

error: Content is protected !!